Al-Risala · January 1996 · page 41

تقلید کے نقصانات

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۱

اسلام کی امن کی طاقت، یا دوسرے لفظوں میں، اسلام کی دعوتی طاقت کو منظم اور مدلل انداز میں پیش کیا، وہ ایک عیسائی اسکالر ڈاکٹر ٹی ڈبلیو آرنلڈ تھے۔ انھوں نے لمبی محنت کے بعد ۱۸۹۶ء میں اپنی کتاب دعوت اسلام (The Preaching of Islam) چھاپی۔ اس کتاب میں انھوں نے نہایت مسکت انداز میں دکھایا کہ اسلام کی سب سے بڑی طاقت اس کی نظریاتی طاقت ہے، اور یہ نظریاتی طاقت خود اپنے آپ میں یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ انسانوں کو مسخر کر سکے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں جب سائنسی حقائق ظاہر ہوئے اور سائنس کی عظمت لوگوں کے ذہنوں پر چھا گئی تو اس کی ضرورت پیدا ہوئی کہ خدا کے دین کی صداقت کو سائنس کی سطح پر از سر نو مدلل کیا جائے۔ یہاں بھی کوئی مسلم اسکالر اس ضرورت کو پورا کرنے والا نہ بن سکا۔ پہلی بار جس نے اس کام کو وقت کے علمی معیار پر انجام دیا، وہ فرانسیسی اسکالر موریس بوکائی تھا۔ جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ اس کی اس کتاب کا نام یہ ہے :

Maurice Bucaille, The Bible, The Quran, and Science (1976)

اسی طرح جدید ذوق کے مطابق ضرورت تھی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو خالص تاریخی معیار پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہاں بھی مسلم علماء اور دانشور اس ضروری کام کو انجام نہ دے سکے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم سیرت نگاروں نے سیرت پر جو کتابیں لکھی ہیں وہ تقریباً سب کی سب اعتقادی انداز میں ہیں نہ کہ جدید مفہوم کے مطابق، علمی انداز میں۔ اس ضرورت کو بھی پہلی بار جس شخص نے پورا کیا وہ ایک مسیحی ڈاکٹر مائیکل ہارٹ تھا جس نے تاریخ کے سو بڑے انسانوں پر ایک ضخیم کتاب لکھی۔ اور اس میں دکھایا کہ پوری بشری تاریخ میں جو سب سے زیادہ کامیاب انسان پیدا ہوا وہ محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے : Michael H. Hart, The 100 (1978)

صحیح البخاری (کتاب الجھاد) میں یہ روایت ہے کہ اللہ فاجر شخص کے ذریعہ بھی اس دین کی مدد کرے گا (ان الله ليوئيد هذ الدين بالرجل الفاجر) فتح الباری ۲۰۸/۶ مذکورہ تائیدی واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے جب میں اس حدیث پر غور کرتا ہوں تو میری سمجھ میں آتا ہے کہ رجل فاجر کے اندر اگر اجتہادی اسپرٹ ہو تو وہ بڑے بڑے تخلیقی کام انجام

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page