Al-Risala · September 1996 · page 7

زیادہ ثواب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۷

خیرخواہی کی روش نہ چھوڑے۔ اس کے باوجود اس کی زبان سے دوسروں کے لیے خیر کا کلمہ نکلے ۔ اس کے باوجود وہ دوسروں کا اعتراف کرے۔ اس کے باوجود وہ دوسروں کے حق میں نیک دعا کرے ۔ وہ اپنے آپ کو پوری طرح منفی رد عمل سے بچائے اور ہر حال میں تقویٰ کی مثبت روش پر قائم رہے ۔

اسی طرح روایات میں آتا ہے کہ مدینہ میں جب یہ بے ہودہ خبر پھیلی تو حضرت ابو ایوب انصاری اپنے گھر میں آئے ۔ ان کی بیوی نے کہا کہ اے ابو ایوب ، آپ نے سنا کہ عائشہؓ کے بارہ میں کیا کہا جا رہا ہے ۔ ابو ایوب انصاری نے کہا کہ ہاں میں نے سنا ۔ مگر وہ جھوٹ ہے۔ پھر انھوں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ اے ام ایوب ، کیا تم ایسا کرو گی ۔ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم نہیں۔ ابو ایوب انصاری نے کہا: پھر عائشہؓ خدا کی قسم تم سے افضل ہیں۔ ان کی بیوی نے جواب دیا کہ ہاں ، آپ نے صحیح کہا۔ (تفسیر قرطبی ۲۰۳/۱۲) بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے صفوان بن المعطل السلمی کا نام لیا جن کے ساتھ ظالموں نے حضرت عائشہ صدیقہ کو ملوث کیا تھا۔ ابو ایوب انصاری نے کہا کہ میں خود اپنے بارے میں سوچتا ہوں کہ اس وقت اگر میں صفوان کی جگہ پر ہوتا تو میرے دل میں اس طرح کا خیال تک نہیں آ سکتا تھا۔ پھر صفوان تو مجھ سے اچھا مسلمان ہے، وہ کیوں کر ایسا سوچ سکتا تھا۔

یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں قول سدید کہا گیا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری نے یہ کہا کہ ایک سادہ منطق کو استعمال کر کے اسے پہلے ہی مرحلہ میں رد کر دیا ۔ انھوں نے سوچا کہ کوئی بھی شریف انسان ایسا خیال اپنے دل میں نہیں لاسکتا۔ پھر کیسے مان لیا جائے کہ عائشہ صدیقہ جیسی شریف خاتون یا صفوان جیسا مخلص مومن اس قسم کی ذلیل بات کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔

یہ ہنگامی واقعہ اگر نہ پیش آتا تو ابو ایوب انصاری کو اس عظیم عمل کا انعام کیسے ملتا کہ ذہنی بھونچال کے وقت بھی انھوں نے اعتراف کا ثبوت دیا۔ ناموافق پروپیگنڈوں کے باوجود انھوں نے اپنے آپ کو فکری اعتدال پر باقی رکھا۔ زلزلہ خیز حالات بھی اس میں کامیاب نہیں ہوئے کہ ان کے قدم کو حق و صداقت سے ہٹادیں۔

حسن ظن ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے آدمی کو خود اپنے آپ سے لڑنا پڑتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے حسن ظن کو خدا کی نظر میں ایک عظیم عمل بنا دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page