Al-Risala · September 1996 · page 8

ایمان و عمل

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۸

ایمان و عمل

ابن ماجہ نے اپنی حدیث کی کتاب کے مقدمہ میں ایک صحابی کا قول نقل کیا ہے کہ ہم نے ایمان کو سیکھا ، اس سے پہلے کہ ہم قرآن کو سیکھیں ( جب ہم نے ایمان سیکھ لیا ) تو پھر ہم نے قرآن سیکھا ( فتعلمنا الایمان قبل ان نتعلم القرآن ، ثم تعلمنا القرآن )

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایمان کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن سے الگ ہو۔ اور صحابہ کرام پہلے ایمان کو سیکھتے رہے۔ جب انھوں نے پوری طرح ایمان کو سیکھ لیا تو اس کے بعد قرآن کو سیکھنا شروع کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان بھی قرآن ہی کا ایک حصہ ہے۔ ایمان کو بھی انھوں نے قرآن ہی کے ذریعہ سیکھا تھا نہ کہ کسی اور ذریعہ سے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں قرآن ہی کے ذریعہ تبلیغ کرتے تھے۔ پھر جو لوگ اسلام قبول کر لیتے ان کی مزید تربیت کا کام بھی قرآن ہی کے ذریعہ ہوتا ( لتنذر به و ذکری للمؤمنین) مدینہ میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔ ہجرت سے پہلے قرآن کے کچھ عالم وہاں بھیجے گئے جو مقری کہے جاتے تھے۔ یعنی قرآن کو پڑھ کر سنانے والے۔ چنانچہ یہ لوگ ایک طرف غیرمسلموں تک قرآن کے ذریعہ اسلام کا پیغام پہنچاتے تھے اور دوسری طرف اسلام قبول کر لینے والوں کو قرآن کی تعلیم دیتے تھے۔

اصل یہ ہے کہ صحابی کے مذکورہ قول میں "قرآن" کا لفظ علم یا اسم خاص کے طور پر نہیں آیا ہے۔ بلکہ اپنے لغوی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی کوئی پڑھی جانے والی چیز۔ اپنے سیاق کے اعتبار سے یہاں قرآن کا لفظ ان آیات کے لیے بولا گیا ہے جن کا تعلق عملی احکام سے ہے۔ اس مفہوم کے لیے بہت سی تائیدی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ انھی میں سے ایک یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عمرؓ نے اس کے خلاف شدت کا انداز اختیار کیا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی قدر تیز گفتگو کر لی تھی۔

بعد کو انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ معاہدہ حدیبیہ کی تکمیل کے بعد قافلہ میں ایک پکارنے والے کی آواز سنائی دی۔ میں ڈرا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی قرآن نہ اترا ہو

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page