Al-Risala · September 1996 · page 9

(لقد خشیت ان يكون نزل في قرآن) فتح الباری ۴۲۰/۸

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۹

(لقد خشیت ان يكون نزل في قرآن) فتح الباری ۴۲۰/۸

اس روایت میں "قرآن" سے مراد پورا مصحف نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد کوئی قرآنی حکم ہے۔ حضرت عمرؓ کو چوں کہ اپنی غلطی کا شدید احساس ہو چکا تھا اس لیے آواز سن کر وہ ڈر گئے کہ میرے بارہ میں کوئی حکم نہ اترا ہو۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ وہ سورہ فتح کی آیتیں تھیں۔ پکارنے والا دراصل سورہ فتح کی آیتیں بطورِ خوش خبری سنا رہا تھا۔

صحابی کے مذکورہ قول میں دونوں مرحلوں سے مراد قرآن اور غیر قرآن نہیں ہے ۔ بلکہ اس سے مراد خود قرآن ہی کے دو حصے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہم نے قرآن کے ایمانی حصہ سے اپنے فکر و شعور کی تعمیر کی جس کا دوسرا نام معرفت ہے۔ اس کے بعد فطری ترتیب کے مطابق ہم نے قرآن کے عملی احکام کو سیکھا اور اس کو اپنی زندگیوں میں اختیار کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ خود ایمان کی پختگی بھی قرآن ہی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ قرآن کے علاوہ دوسرے ذریعہ سے حاصل کیا ہوا ایمان شریعت میں معتبر نہیں۔

یہ ترتیب فرداور جماعت دونوں کے لیے ہے۔ جس طرح فرد کے اندر پہلے ایمانی شعور پیدا کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس کو عملی احکام کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہی معاملہ جماعت یا معاشرہ کا بھی ہے۔

کسی مسلم معاشرہ میں جب اسلام کے احکام و حدود کو نافذ کرنا ہو تو پہلے اس کی ایمانی حالت کا اندازہ کیا جائے گا۔ اگر ایمانی حالت کے اعتبار سے وہ زوال کی حالت میں ہو تو ایسا کرنا ہرگز اسلام نہیں ہوگا کہ قانون اور اقتدار کے زور پر اس کے اندر احکام و حدود نافذ کرنے کی کوشش کی جائے ۔ اس کے بجائے پہلے معاشرہ کی ایمانی حالت کو درست کرنا ہوگا۔ جب وہ ایمان کی ضروری سطح پر پہنچ چکا ہو، اس کے بعد وہ مرحلہ آئے گا کہ اس کے اوپر اسلام کے اجتماعی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔

پہلے ہم نے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہم نے قرآن کے حصہ ایمان کو سیکھا، اس کے بعد ہم نے قرآن کے حصہ احکام کو سیکھا۔ گویا پہلے مرحلہ میں شعور ایمان ہے اور دوسرے مرحلہ میں تعمیل احکام۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page