دلیل نبوت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۰
دلیل نبوت
عن ابی سعید الخدری قال۔ قال حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : (إن اکثر علیہ وسلم نے فرمایا۔ تمہارے اوپر میں سب سے ما اخاف علیکم ما یخرج اللہ لكم من زیادہ اس سے ڈرتا ہوں کہ اللہ تمہارے اوپر زمین بركات الارض۔ قيل وما بركات الارض۔ قال کی برکتیں نکال دے گا۔ پوچھا گیا زمین کی برکتیں زهرة الدنيا (فتح الباری ۴۲۸/۱۱) کیا ہیں۔ فرمایا : دنیا کی رونق۔
امام بخاری نے اس حدیث کو کتاب الرقاق کے تحت درج کیا ہے۔ یعنی وہ باب جس میں دل کو نرم کرنے والی باتیں ہیں۔ یہ بلاشبہ حدیث کا ایک پہلو ہے۔ اس کو پڑھ کر آدمی دنیا کے فتنہ کو سمجھتا ہے اور اس کے اندر آخرت کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔
تاہم اسی کے ساتھ اس حدیث کا ایک اور پہلو ہے۔ یہ حدیث دلائل نبوت میں سے ایک دلیل ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ ایسا ہوگا کہ زمین کے اندر چھپی ہوئی برکتیں باہر آجائیں گی۔ اس کی رونق اور اس کی چمک دمک کو دیکھ کر تم فتنہ میں پڑ جاؤ گے اور دنیا کی طرف دوڑ پڑو گے۔ زمین کے اندر کی یہ برکتیں صنعتی انقلاب کے بعد نکل کر آج سب کے سامنے آگئی ہیں۔ چودہ سو سال پہلے ساری دنیا میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو یہ جانتا ہو کہ زمین کے اندر ایسی بارونق چیزیں چھپی ہوئی ہیں، اس کو صرف پیغمبر ہی جان سکتا تھا جس کا رشتہ براہ راست خدا سے جڑا ہوا ہو اور جو عالم الغیب سے معلومات لے کر بولتا ہو۔
یہ حدیث دراصل جدید صنعتی انقلاب کی پیشین گوئی ہے۔ اس انقلاب کے بعد جو پر رونق دنیا سامنے آئی ہے وہ تمام فتنوں سے زیادہ بڑا فتنہ ہے۔ اس کی دل فریبیان تمام انسانوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔ یہ دنیا اتنی پر کشش ہے کہ ہر آدمی سب کچھ بھول کر اس کی طرف بھاگا چلا جا رہا ہے۔ خوش قسمت وہ ہے جو اس عظیم فتنے سے بچ جائے۔ وہی وہ شخص ہے جس کو آخرت میں عظیم انعام دیا جائے گا۔ یہ حدیث مستقبل میں ہونے والے ایک واقعہ کو ماضی میں بتاتی ہے۔ وہ ایک نامعلوم کی پیشگی خبر ہے۔ اس اعتبار سے وہ آپ کے پیغمبر خدا ہونے کی دلیل ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues