جنگ کا قانون
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۱
جنگ کا قانون
وقاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونكم اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے ولا تعتدوا إن الله لا يححب المعتدين لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو۔ اللہ زیادتی کرنے (البقره ۱۹۰) والوں کو پسند نہیں کرتا۔
یہاں کہنا یہ تھا کہ جو لوگ تمہارے خلاف لڑائی چھیڑیں ان سے دفاع کے لیے لڑو۔ مگر دفاع کو حذف کر کے فرمایا کہ ان سے اللہ کے راستہ میں لڑو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن کا دفاع بھی اللہ کے لیے ہوتا ہے۔ وہ نفرت اور انتقام کے جذبہ کے تحت نہیں ہوتا بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ نے دفاع کرنے کی اجازت دی ہے۔ مومن کا بھڑنا بھی اللہ کے لیے ہوتا ہے اور اس کا چلنا بھی اللہ کے لیے۔ اسی ربانی جذبہ کی وجہ سے یہ ہوتا ہے کہ مومن کی جنگ صرف دفاع کی حد تک محدود رہتی ہے۔ جہاں دفاع کا مسئلہ ختم ہوا وہیں اس کی جنگ بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مومن جنگ کے دوران ظالم نہیں بنتا۔ وہ صرف جنگجو افراد پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔ وہ عورتوں اور بوڑھوں اور بچوں کو نہیں مارتا۔ وہ غیر مقاتلین کو اپنے انتقام کا نشانہ نہیں بناتا۔
"اور زیادتی نہ کرو" کا مطلب یہ ہے کہ تم خود کسی کے خلاف جارحیت کر کے جنگ کا آغاز نہ کرو۔ القرطبی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اور کہا گیا ہے کہ زیادتی نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو تم سے جنگ نہ کرے تم بھی اس سے جنگ نہ کرو وقيل "لا تعتدوا" (ای لا تقاتلوا من لم يقاتل) الجامع لاحکام القرآن ۳۵۰/۲ اسلام کے مطابق، اصل مطلوب چیز امن ہے نہ کہ جنگ۔ اگر کوئی جنگ پر آمادہ ہو تو پہلی کوشش یہ ہوگی کہ جنگ کو کسی نہ کسی طرح ٹال دیا جائے ۔ جب جنگ سے بچنے کی کوشش آخری حد تک ناکام ہو جائے اور فریق ثانی جنگ کا آغاز کر بیٹھے تو اس کے بعد آخری چارہ کے طور پر دفاعی جنگ کی جائے گی۔ مگر جہاں تک جارحانہ جنگ کا تعلق ہے، اسلام کسی حال میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔
اسلام کا مقصد یہ ہے کہ فرد انسانی کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے۔ یہ ایک تعمیری کام ہے جو صرف پرامن حالات ہی میں ہو سکتا ہے نہ کہ جنگ اور تشدد کے حالات میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues