عوام و خواص
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۲
عوام و خواص
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر قدیم کہ میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان میں سے ایک نام رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن المطلب بن عبد مناف کا ہے۔ وہ قریش کے پہلوانوں میں سے تھے۔ روایات کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور رکانہ میں کشتی ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ کو کشتی میں پچھاڑ دیا۔ اس کے بعد رکانہ نے اسلام قبول کر لیا۔
یہ کشتی کیسے ہوئی؟ اس سلسلہ میں ایک روایت یہ ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ سے کہا: افرأيت ان صرعتك اتعلم ان ما اقول حق (اگر میں کشتی میں تم کو پچھاڑ دوں تو کیا تم جان لو گے کہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہ حق ہے) البدایہ والنہایہ ۳/۱۰۳ دوسری روایت میں اس قول کو رکانہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، رکانہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: إن صرعتنی علمتے انك صادق (اگر آپ کشتی میں مجھے پچھاڑ دیں تو میں جان لوں گا کہ آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں) الكامل فی التاریخ ۵/۲، رکانہ کی طرح عمر بن الخطاب بھی قدیم کہ کے پہلوانوں میں سے تھے۔ مگر نہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی میں پچھاڑنے کی بات کی اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایسا کہا۔ اس کے برعکس عمر فاروق نے مستر آن کو پڑھا۔ اس کو پڑھنے سے ان پر حقیقت منکشف ہوئی اور انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔
اصل یہ ہے کہ انسانوں میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک عوام اور دوسرے خواص۔ عوام وہ ہیں جو پیدائشی طور پر کم تر ذہنی سطح سے تعلق رکھتے ہوں۔ اور خواص وہ ہیں جو بلند ذہنی سطح کے مالک ہوں۔ دونوں کی ذہنی ضرورتیں الگ ہیں اور دونوں کو ان کی ذہنی ضرورت یا ذہنی سطح کے مطابق اسلام کا پیغام دیا جاتا ہے۔
رکانہ کا تعلق عوام کے طبقہ سے تھا۔ وہ کشتی کی ہار جیت سے مطمئن ہو سکتے تھے۔ مگر عمر فاروق خواص کے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اعلیٰ ذہنی صلاحیت کے مالک تھے۔ اور اعلیٰ ذہن کے لوگ دلائل و حقائق سے متاثر ہوتے ہیں نہ کہ مذکورہ نوعیت کی کسی چیز سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues