عوام و خواص
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۳
عوام و خواص یا کمتر ذہنی سطح اور اعلیٰ ذہنی سطح کی یہ تقسیم خود خالقِ فطرت کی قائم کردہ ہے۔ یہ فطری فرق تقاضا کرتا ہے کہ اسلام کی دعوت دو سطح پر چلائی جائے۔ ایک عوام کی سطح پر جہاں قصے اور مثالیں اور فضائل کی زبان میں لوگوں کو دین کی طرف متوجہ کیا جائے۔
دوسری سطح خواص کی ہے۔ یہاں لوگوں کو اسلام کا پیغام دلائل و حقائق کی زبان میں دینا ہوگا۔ یہاں اسلام کی تعلیمات کو اعلیٰ عقلی اسلوب میں ڈھال کر پیش کیا جائے گا۔ اسی لیے ایک صحابی نے کہا کہ لوگوں سے ان کے عقلی معیار کے مطابق بات کرو (كلم الناس على قدر عقولهم) اس تقسیم کو توڑا نہیں جاسکتا۔ عوام کے سامنے اگر منطقی اسلوب یا دلائل کی زبان میں بات کی جائے تو وہ ان کے ذہن کو اپیل نہیں کرے گی۔ وہ اس سے فائدہ اٹھانے سے عاجز رہیں گے۔ اسی طرح خواص کے سامنے عوام کی زبان میں بات کہی جائے تو وہ خواص کو متاثر کرنے میں ناکام ثابت ہوگی۔
اسلام کے احیاء کے لیے عوام اور خواص دونوں قسم کے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اگر خواص دین سے دور ہوں تو صرف عوام میں دین کا پھیلنا احیاء اسلام کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اگر عوام میں دین نہ پھیلا ہو تو صرف خواص کا اسلام پسند بن جانا کوئی حقیقی انقلاب لانے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے درمیان ایسی تحریکیں جاری ہوں جو دو طرفہ تقاضوں کو پورا کرنے والی ہوں۔ ایک طرف وہ عوام کے اندر عمومی دینی فضا پیدا کریں۔ دوسری طرف خواص کے اندر ذہنی انقلاب پیدا کر کے انہیں دین کی خدمت کے لیے تیار کیا جائے۔ دین کی گاڑی پہلے بھی انھیں دونوں پہیوں کی یکجائی سے چلی تھی اور آج بھی وہ اسی طرح چلے گی ۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ دین کی گاڑی کو چلانے والا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues