دین میں آسانی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۴
دین میں آسانی
قرآن (البقرہ ۱۸۵) میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، وہ تمہارے ساتھ سختی کرنا نہیں چاہتا (یريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر) دوسری جگہ (الحج ۷۸) فرمایا کہ اللہ نے تمہارے اوپر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی (وما جعل عليكم في الدين من حرج) حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان هذا الدين يسر البخاري، کتاب الایمان) یعنی یہ دین آسان ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارا بہتر دین وہ ہے جو آسان ہو: ان خير دينكم (مسند احمد) آپ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ آسانی پیدا کرو، لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالو (بشروا ولا تعسروا)
اسی لیے فقہ میں شریعت کے بارہ میں یہ اصولی مسئلہ وضع کیا گیا ہے کہ : المشقة تجلب التيسير۔ یعنی مشقت آسانی لاتی ہے۔ حنفی عالم زین الدین ابن ابراہیم بن محمد مصری (م ۹۷۰ھ) جو ابن نجیم کے نام سے مشہور ہیں، انھوں نے اصول فقہ پر اپنی کتاب (لاشباہ والنظائر) میں ایک بحث کا عنوان یہ قائم کیا ہے: القاعدۃ الرابعة، المشقة تجلب التيسير (چوتھا قاعدہ اس بات پر کہ مشقت آسانی لاتی ہے)
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین بذات خود کوئی سہولتوں اور آسانیوں کا مجموعہ ہے۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ دین کے راستہ میں جب حالات کے تحت کوئی مشقت کی صورت پیدا ہو جائے تو وہاں لوگوں کو مشقت میں نہیں ڈھیلا جائے گا، بلکہ ان کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت بیماری میں وضو کے بجائے تیمم ہے۔ سخت بارش میں مسجد کے بجائے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ سفر میں روزہ چھوڑ دینا ہے، وغیرہ۔
یہی اصول ملی زندگی کے لیے بھی ہے۔ جہاں اقدام کرنا موت کی طرف چھلانگ لگانے کے ہم معنی ہو وہاں اعراض کی تعلیم ہے۔ جہاں اجتماعی مظاہرہ میں نقصان کا اندیشہ ہو وہاں غیر مظہراتی انداز اختیار کرنے کا حکم ہے۔ جہاں سیاسی اصلاح کو نشانہ بنانے میں ہلاکت پیش آنے والی ہو وہاں انفرادی اصلاح پر اپنی کوششوں کو لگانا ہے۔ جہاں شور والے دین میں تباہی ہو وہاں خاموشی والا دین اختیار کر لینا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues