دین میں آسانی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۵
دین میں آسانی کا یہ اصول صرف فرد کے لیے نہیں ہے، وہ جماعت اور قوم کے لیے بھی ہے۔ جس طرح انفرادی معاملات میں مشکل پیش آنے کی صورت میں فرد کے لیے شریعت کا حکم نرم کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جماعت کے لیے بھی سخت حالات میں شریعت اپنے تقاضے کو نرم کردیتی ہے۔
دینی مقصد کے لیے اقدام کرنا بجائے خود ثواب کا ایک عمل ہے۔ مگر جہاں ایسی صورت حال پیدا ہو جائے کہ اقدام کرنا موت کی طرف چھلانگ لگانے کے ہم معنی ہو، وہاں شریعت کا حکم بدل جائے گا۔ اب اقدام کے بجائے اعراض اہل اسلام کے لیے شریعت کا مطلوب عمل بن جائے گا۔
اسی طرح مثلاً شریعت کا ایک عمل ہے جس کو اجتماعی صورت میں کرنا مطلوب ہے۔ لیکن اگر حالات ایسے ہوں کہ مظاہرہ میں نقصان کا اندیشہ ہو تو وہاں حکم میں نرمی پیدا کردی جائے گی۔ اب مظاہر اتی انداز کے بجائے غیر مظاہر اتی انداز اختیار کرنے کا حکم دے دیا جائے گا۔ اسی طرح ایک معاشرہ ہے جہاں سیاسی اصلاح کی ضرورت ہے۔ لیکن حالات بتاتے ہیں کہ اگر سیاسی تبدیلی کو نشانہ بنا کر تحریک چلائی جائے تو ہلاکت کی صورت پیش آجائے گی تو ایسے معاشرہ میں لوگوں کو ہلاکت میں ڈالنے کے بجائے خود حکم کو بدل دیا جائے گا۔ اب وہاں یہ مطلوب ہو جائے گا کہ سیاسی انقلاب کے محاذ سے ہٹ کر انفرادی اصلاح کے میدان میں پر امن کوششیں کی جائیں۔
اسی طرح ایک موقع جہاں اعلان واظہار ایک شرعی مطلوب نظر آتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ یقین ہے کہ اگر لاؤڈ اسپیکر کی پر شور تقریر کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس کا منفی رد عمل ہوگا اور اہل اسلام کے لیے شدید تر حالات پیدا ہو جائیں گے۔ تو ایسے حالات میں شور والا عمل ساقط ہو جائے گا، اور شریعت کا تقاضا ہو جائے گا کہ خاموش تدبیر کا انداز اختیار کر کے اپنا مقصد حاصل کیا جائے۔ عشرے سے بچنا اور رئیس کا طریقہ اختیار کرنا یہ ہے کہ بوقت عمل یہ دیکھا جائے کہ موجودہ حالات میں کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں ہے۔ اور پھر ممکن دائرہ میں اپنی قوتوں کو صرف کیا جائے، نہ کہ ناممکن دائرہ میں سر ٹکرا کر مزید اپنے نقصان میں اضافہ کر لیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues