Al-Risala · September 1996 · page 16

خودکشی کی چھلانگ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۶

خودکشی کی چھلانگ

دہلی کے روزنامہ ہندوستان ٹائمز (۷ نومبر ۱۹۹۵) کے پہلے صفحہ پر ایک تصویر کہانی چھپی ہے۔ یہ ایک مُردہ کی کہانی ہے جو زندہ لوگوں کو دردناک سبق دے رہی ہے۔

دہلی کے مسٹر ایم این ارو را کی ۲۰ سالہ بھتیجی ساری کا ہو را (Sarika Hora) پوز میں انجینئرنگ کے تیسرے سال کی اسٹوڈنٹ تھی۔ اکتوبر ۱۹۹۵ میں وہ اپنی فیملی کے ساتھ دیوالی منانے کے لیے دہلی آئی۔ ۲۷ اکتوبر کو نظام الدین ریلوے اسٹیشن سے وہ گوا ایکسپریس پر سوار ہوئی تاکہ پونہ پہنچ کر وہ دوبارہ اپنے ایکڈمک سیشن میں شامل ہو سکے۔

ریلوے اسٹیشن پر اس کے گھر والوں نے اس کو رخصت کیا۔ وہ اپنے ایک ساتھی طالب علم کے ہمراہ نہایت خوش و خرم اپنی منزل کی طرف جارہی تھی۔ اس ٹرین کے ہر دو ڈبہ کے درمیان اندرونی گزر گاہ بنی ہوئی تھی۔ ٹرین گوالیار اور جھانسی کے درمیان تھی کہ پر شوق لڑکی اٹھی تاکہ ایک کو چ سے دوسری کوچ میں جاسکے۔ وہ کوچ کی دہلیز (vestibule) میں پہنچی۔ یہاں قاعدہ کے مطابق ، دونوں کوچ کے درمیان گزرنے کی پلیٹ (stepping plate) ہونی چاہیے تھی۔ مگر کسی وجہ سے وہ وہاں موجود نہ تھی۔ لڑکی نے اس کی پروانہ کی۔ اس نے چاہا کہ قدم بڑھا کر وہ اس کوچ سے اُس کوچ میں پہنچ جائے ۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کا پاؤں اگلی کوچ تک پہنچنے کے بجائے درمیان کی خالی جگہ پر پڑ گیا۔ اچانک وہ تیز دوڑتی ہوئی ریل کے نیچے چلی گئی اور سکینڈوں میں اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ یہ صرف ریل کے سفر کی بات نہیں ۔ زندگی کے وسیع تر سفر میں بھی بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ ہمیں ایک حالت سے دوسری حالت تک پہنچنے کے لیے کسی گزرنے والی پلیٹ (stepping plate) کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر سب سے پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ ٹھہر کر دیکھا جائے کہ ہمارے لیے فی الواقع کوئی قابل اعتماد پلیٹ موجود ہے جس سے گزر کر ہم آگے کی طرف جاسکیں۔ ایسی مقدم گاہ کی غیر موجودگی میں گزرنے کی کوشش کرنا خود کشی کی چھلانگ لگانا ہے نہ کہ ترقی اور کامیابی کی طرف اپنا سفر طے کرنا۔

کیا کوئی سبق لینے والا ہے جو اس واقعہ سے سبق لے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page