Al-Risala · January 1996 · page 42

پیغمبر اسلام کی سنتیں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۲

دے گا ۔ اور رجل مومن اگر اجتہادی اسپرٹ سے خالی ہو جائے تو اس دنیا میں وہ کوئی بھی بڑا کام نہیں کر سکتا، خواہ بطورِ خود وہ اپنے آپ کو سُر تاج انسانیت اور امامِ ِقافلۂ بشری ہی کیوں نہ سمجھ رہا ہو ۔

پیغمبر اسلام کی سنتیں

دوسری اور تیسری صدی ہجری میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کتابی صورت میں مدون کیے گئے تو اس وقت کے علماء نے کچھ چیزوں کو " سنن " کے ابواب کے تحت درج کیا اور کچھ چیزوں کو دوسرے دوسرے عنوانات کے تحت اپنی کتابوں میں جمع کر دیا۔ قدرتی طور پر یہی کتابیں بعد کو دین کا ماخذ بن گئیں ۔ لوگوں نے ان کتابوں میں جن چیزوں کو سنت کے نام سے پڑھا ان کو سنت سمجھا۔ اور جن چیزوں کو ان کتابوں میں بطورِ سنت درج نہیں کیا گیا تھا ان کو شعوری طور پر فہرست سنت سے خارج سمجھ لیا۔ اس طرح داڑھی اور ازار اور مسواک جیسی چیزوں کو تو سنت سمجھا جانے لگا۔ اور دوسری بہت سی چیزیں ان کے ذہن میں سنت کی حیثیت سے جگہ نہ پاسکیں ، حالاں کہ وہ بھی بلاشبہ سنتِ رسول تھیں ۔ بعد کو جب کھلے ذہن سے سوچنے کا ذوق ختم ہو گیا اور تقلیدی ذہن ہی تمام لوگوں کے اوپر چھا گیا تو یہ غلطی مزید پختہ ہو کر عوام و خواص کے ذہنوں پر چھا گئی ۔

یہاں اس نوعیت کی چند سنتیں بطورِ مثال درج کی جاتی ہیں ۔ جو اگر چہ سنت ہیں اور نہایت اہم سنت ہیں ۔ مگر قدیم کتابوں میں بطورِ سنت درج نہ ہونے کی بنا پر عملاً وہ ہماری فہرست سنت سے خارج ہو گئی ہیں ۔

۱- صحیح البخاری میں ایک باب ہے جس کے الفاظ ہیں " باب فضل مكة وبنیانھا‘‘ " ، یعنی مکہ کی فضیلت کا اور اس کی تعمیر کا باب ۔ اس باب کے تحت حضرت عائشہ کی روایت نقل کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں ایک بار کعبہ کی دیواریں گر گئیں ۔ اس کے بعد مشرکین نے کعبہ کی عمارت کو دوبارہ بنایا۔ حضرت ابراہیم کا بنایا ہوا کعبہ لمبا تھا۔ مگر مشرکین کے پاس چونکہ سامان کم تھا، انھوں نے نئی تعمیر میں کعبہ کو چو کور کر دیا ۔ اور اس کا ایک حصہ خالی چھوڑ دیا جو اب حطیم کہا جاتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page