Al-Risala · September 1996 · page 17

پوپ کے جواب میں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۷

پوپ کے جواب میں

پوپ جان پال دوم کی ایک کتاب سن ۱۹۹ میں چھپی ہے۔ اس کا ترجمہ بہت سی عالمی زبانوں میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کتاب کے ایک باب کا عنوان محمد (Muhammad) ہے۔ اس مختصر باب میں اسلام پر اظہار رائے کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

جو شخص بھی پرانے عہد نامہ اور نئے عہد نامہ کو جانتا ہے، اور پھر وہ قر آن کو پڑھتا ہے۔ وہ واضح طور پر اس عمل کو دیکھتا ہے جس کے ذریعہ وہ مکمل طور پر خدائی اظہار کو گھٹاتا ہے، یہ نا ممکن ہے کہ آدمی اس کو نوٹ نہ کرے کہ قرآن کا بیان اس سے الگ ہے جو خدا نے اپنے بارہ میں کہا ہے، سب سے پہلے پرانے عہد نامہ میں پیغمبروں کے ذریعہ، اور پھر آخری طور پر نئے عہد نامہ میں اپنے بیٹے کے ذریعہ۔ خدا کے خود ظاہر ہونے کا قیمتی پہلو، جو کہ پرانے عہد نامہ اور نئے عہد نامہ کا حصہ ہے، وہ قطعی طور پر اسلام میں بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ انسانی زبان کے کچھ بہت ہی خوب صورت نام قرآن میں خدا کو دیے گئے ہیں لیکن آخری طور پر وہ دنیا سے باہر کا ایک خدا ہے۔ ایک ایسا خدا جو صرف عظیم ہے، وہ ایسا خدا نہیں جو ہمارے ساتھ ہو۔ اسلام ہر گز نجات کا مذہب نہیں (اصل عبارت نیچے ملاحظہ فرمائیں) پوپ کی اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں خدا کو ایک غیبی حقیقت کے طور پر مانا گیا ہے۔ وہ ایک محسوس وجود کی صورت میں انسان کے پاس موجود نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس مسیحی مذہب میں تجسیم (incarnation) کا تصور ہے۔ یعنی خدا کا بیٹا) انسان جیسے گوشت اور خون کی صورت میں انسان Whoever knows the Old and New Testaments, and then reads the Koran, clearly sees the process by which it completely reduces Divine Revelation. It is impossible not to note the movement away from what God said about Himself, first in the Old Testament through the prophets, and then finally with New Testament through His Son. In Islam all the richness of God's self- revelation, which constitutes his heritage of the Old and New Testaments, has definitely been set aside. Some of the most beautiful names in the human language are given to the God of the Koran, but He is ultimately a God outside

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page