Al-Risala · September 1996 · page 20

پوپ کے جواب میں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۰

ہے تو وہ خدا سے آخری حد تک قریب ہو جاتا ہے (العلق ۱۹) اسی طرح حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ( تعبد اللہ کا نك تراہ) اور یہ کہ آدمی جب دعا کرتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے (مناجی ربہ)

اس طرح کی آتیں اور حدیثیں بتاتی ہیں کہ اسلام میں خدا کا جو تصور دیا گیا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان قربت کا تعلق نہیں ہے بلکہ صرف دوری کا تعلق ہے۔ اصل معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو اہل ایمان ہیں وہ خدا سے بہت زیادہ محبت کرنے والے ہوتے ہیں (البقرہ ۱۶۵) یہی واقعہ بتاتا ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو خدا سے ملانے والا ہے۔ کیوں کہ آدمی جب تک قربت کا احساس نہ کرے، اس کو کبھی خدا کے ساتھ حب شدید کا تعلق نہیں ہو سکتا۔

۶۔ قرآن کے مطابق (حتی کہ خود کتب قدیمہ کے مطابق) خدا سے قربت و اتصال غیر مادی سطح پر ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں ذکر اور دعا اور غور وفکر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے یہ ذہنی یا قلبی اعمال دراصل اپنے اندر اعلیٰ روحانیت کو جگانے کے لیے ہیں۔ یہ اعلیٰ روحانیت جب کسی کے اندر جاگ اٹھے تو کسی تاخیر کے بغیر فورا ہی اس کا اتصال خدا کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے۔ اس میں نہ وقت اور مقام کی کوئی شرط ہے اور نہ کسی قسم کے درمیانی واسط کی ضرورت۔ بندہ جب خدا کی یاد میں غرق ہوتا ہے۔ وہ اس کو دل کی گہرائیوں کے ساتھ پکارتا ہے۔ جب وہ اپنی سوچ کو پوری طرح اپنے رب کی طرف مرکوز کر دیتا ہے تو فورا ہی ایک ایسا واقعہ پیش آتا ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خداوند ذوالجلال کے ساتھ روحانی سطح پر انسان کا اتصال ہے ۔

اس اتصال کی علامت کے طور پر انسان کا دل نرم ہو جاتا ہے۔ اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے سینہ میں ایک آفاقی سکون اتر آیا ہے۔

یہی خدا اور بندے کا اتصال ہے۔ یہ اتصال سب سے زیادہ اسلام میں حاصل ہوتا ہے۔ کیوں کہ اسلام انسان کو کسی ظاہری یا غیر متعلق چیز پر نہیں اٹکاتا، بلکہ وہ اس کو براہ راست ۲۰ الرسائل ستمبر ۱۹۶۹

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page