Al-Risala · September 1996 · page 25

دو ہجرتیں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۵

یہ اس نادانی کا اعادہ ہے جو دو ہزار سال پہلے کی گئی تھی۔ اس قسم کی ہجرت بلا شبہ ہلاکت خیز حد تک غلط ہے۔ اس کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔ یہ ایک قسم کی خلاف زمانہ حرکت (anachronism) ہے۔ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ فکر کے اعتبار سے ابھی تک قبائلی دور میں جی رہے ہیں۔ قبائلی دور میں جب کوئی مقابلہ پیش آتا تھا تو وہ صرف دو فریقوں کے درمیان ہوتا تھا۔ مثلاً قدیم یثرب کی جنگ بعاث اوس اور خزرج کے درمیان تھی، مگر آج ہم منظم اسٹیٹ کے دور میں جی رہے ہیں۔ اب دو محارب فریقوں کے علاوہ یہاں ایک تیسرا فریق بھی ہے، اور وہ پولیس ہے۔ مذکورہ انداز میں سوچنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم مسلمانوں کا علیحدہ پاکٹ بنا دیں گے تو ہم اس پوزیشن میں ہو جائیں گے کہ "ہند وسنہ آوروں" کا اجتماعی قوت سے دفاع کر سکیں۔ مگر یہ محض خام خیالی ہے۔ کیوں کہ تیسرا فریق (پولیس) ایسے موقع پر غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔ وہ فوراً آ جائے گا اور کرفیو کا قانون نافذ کر کے پورے علاقہ کو اپنے کنٹرول میں لے لے گا۔ اس کے بعد یہ تیسرا فریق وہ سب کچھ مزید اضافہ کے ساتھ کرے گا جس سے بچنے کے لئے مسلم دانشور مسلمانوں کو علیحدہ پاکٹ بنانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

اسلام کی رو سے وہ اس لئے غلط ہے کہ اسلام میں ہجرت صرف اس وقت ہے جب کہ ہجرت کے سوا کوئی اور چارہ کار سرے سے ممکن ہی نہ رہا ہو۔ ہندوستان میں ایسی صورت ہرگز پائی نہیں جاتی۔ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فساد کا بالکل یقینی حل یہ ہے کہ مسلمان اعراض کا اصول اختیار کریں، وہ اشتعال انگیزی کے مواقع پرشتعل نہ ہوں۔ سیکڑوں کی تعداد میں ایسے تجربات موجود ہیں کہ جب بھی مسلمانوں نے اعراض کا طریقہ اختیار کیا تو فساد نہیں ہوا ۔ ایسی حالت میں انتقال آبادی کی بات کرنا اصول اسلام کی خلاف ورزی ہے نہ کہ اصول اسلام کی تعمیل۔

امام بخاری نے حضرت عائشہ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو میں سے ایک صورت کو اختیار کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان صورت کو اختیار فرماتے تھے ۔ (صحیح بخاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ)

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page