Al-Risala · September 1996 · page 334

۲۶ الرسلہ ستمبر ۱۹۶۷

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳۴

اس سنت رسول کی روشنی میں دیکھتے تو، ہجرت کی مذکورہ تجویز سراسر سنت رسول کے خلاف ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ کا طریقہ انتخاب ایسا کلام ہے۔ اور یہ نادان لوگ مسلمانوں کو انتخاب عصر کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس معاملہ میں اعتراض بلاشبہ آسان ہے اور ہجرت اس کے مقابلہ میں بلاشبہ مشکل۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، فرقہ وارانہ فساد سے بچنے کے لئے ہمارے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک اعتراض کا اور دوسرے ہجرت کا۔ عقل اور تجربہ دونوں بتاتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ کو اعتراض کے ذریعہ بخوبی طور پر حل کیا جاسکتا ہے۔ پھر جو مسئلہ اعتراض کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہو اس کے لئے ہجرت کی تجویز پیش کرنا کس قدر لغو اور کتنا زیادہ غیر اسلامی ہے۔ موجودہ مسلمانوں کو بلاشبہ ایک ہجرت کرنا ہے۔ مگر یہ مکانی ہجرت نہیں ہے بلکہ تدبیری ہجرت ہے۔ ۱۹۴۷ کے بعد سے اب تک مسلمان، کچھ نا اہل لیڈروں کے مشورہ کے تحت جن اصول پر عمل رہے وہ تھا۔ احتجاج ، دفاع ، مظاہرہ ، تلکاؤ۔ اب انہیں چاہئے کہ اس طریقہ کو وہ مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ اس کے بجائے وہ محبت، اخلاق، تحمل، اعتراض اور حکمت کا طریقہ اختیار کریں۔ یہ ان کے لئے تدبیری ہجرت یا طریق کار میں ہجرت کے ہم معنی ہے۔ اور اسی میں ان کی یقینی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔

اسلام میں تیمم کی اجازت ہے۔ مگر تیمم کی اجازت اس وقت ہے جب کہ وضو کے لئے پانی موجود نہ ہو۔ اسی طرح اسلام کا ایک اصول ہجرت بھی ہے۔ مگر یہ اصول اسی وقت کے لئے ہے جب کہ دوسری کوئی ممکن صورت سرے سے موجود نہ رہے۔ ہندوستان میں ہرگز کوئی ایسی اپر جنسی کی صورت پائی نہیں جاتی۔ یہاں فرقہ دارانہ فساد کا جو مسئلہ ہے اس کو صبر و اعتراض کے ذریعہ یقینی طور پر حل کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے ہندوستان میں آیت ہجرت مطلوب نہیں ہے۔ یہاں جو جو آیت مطلوب اور قابل انطبا ق ہے وہ قرآن کی یہ آیت ہے: وان تصبرو ا وتتقوا لا يضركم كيد هم شيئاً (آل عمران ۱۲۰)

۲۶ الرسلہ ستمبر ۱۹۶۷

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page