Al-Risala · January 1996 · page 43

پیغمبر اسلام کی سنتیں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۳

روایت بتاتی ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (فتح مکہ کے بعد) کہا کہ اے خدا کے رسول ، آپ کیوں نہیں اس کو دوبارہ ابراہیمی اساس کی طرف لوٹا دیتے۔ رسول اللہ نے فرمایا۔ تمہاری قوم ابھی جلد ہی جاہلیت سے نکل کر اسلام میں داخل ہوئی ہے۔ اگر میں ایسا کروں تو مجھے ڈر ہے کہ وہ ان کے دلوں میں ناگواری پیدا کرے گی (فخاناقت ان تنكر قلوبھم) فتح الباری ۳ / ۵۱۳ - موجودہ فہرست بندی میں ایک قاری اس روایت کو پڑھے گا تو وہ اس کو فضیلت کے یا قصہ' کعبہ کے خانہ میں ڈال کر آگے بڑھ جائے گا ۔ اس سے وہ اپنی زندگی کے لیے کوئی رہنمائی نہیں لے سکے گا ۔ حالانکہ اس روایت میں ایک عظیم حکمت اور عظیم رہنمائی موجود ہے ۔ اس پیغمبرانہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملات میں آدمی کو آئیڈیل کے بجائے پریکٹیکل کو دیکھنا چاہیے ، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ وہ سچے اہل ایمان کے ساتھ معاملہ کر رہا ہو جیسا کہ اصحاب رسول تھے ۔ اجتماعی زندگی میں معاملہ کرتے ہوئے بار بار ایسا پیش آتا ہے کہ ایک صورت وہ ہوتی ہے جو اس معاملہ میں آئیڈیل صورت ہوتی ہے ۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ اگر آئیڈیل یا معیاری حل پر اصرار کیا گیا تو بات مزید بگڑ جائے گی ۔ ایسی حالت میں پیغمبرانہ سنت یہ ہے کہ معیاری حل پر اصرار نہ کیا جائے ، بلکہ عملی حل کو قبول کر لیا جائے ۔

آزادانہ غور وفکر کا ماحول ہو تو آدمی اس سنت رسول کو دریافت کرے گا جس میں بیشمار فوائد چھپے ہوئے ہیں ۔ اور اگر قدیم ذخیرہ پر آزادانہ غور وفکر کا ماحول نہ ہو تو وہ اس عظیم سنت سے آگاہ نہ ہو سکے گا ۔ اور نتیجہ' اس کے دور رس فائدوں سے بھی محروم رہے گا ۔ ۲ - انھیں ” نامعلوم “ سنتوں میں سے ایک سنت وہ ہے جس کو سنت حدیبیہ کہا جا سکتا ہے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اس عظیم سنت رسول سے اتنا زیادہ بے خبر ہیں کہ اگر اس کو لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے تو عوام سے لے کر خواص تک یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ تو بزدلی اور پسپائی ہے :

آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی ایک ثابت شدہ سنت رسول سے یہ اجنبیت کیوں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سنت کو سیرت

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page