Al-Risala · September 1996 · page 335

تحمل کی ضرورت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳۵

تحمل کی ضرورت

مسلمانوں کے درمیان باہمی جھگڑے اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ آپ کسی بھی دن اور کسی بھی مقام پر اس کا نمونہ دیکھ سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک خبر پڑھیئے: نئی دہلی، ۲۲ جون ۱۹۹۳۔ حوض قاضی کے علاقہ کی گلی شاہ تار میں ایک ہی گھر میں رہنے والے رشتہ داروں میں جھگڑا ہو گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ رشتہ داروں نے چاقو چلائے جس کے نتیجہ میں اشفاق نامی نوجوان کا قتل ہو گیا جب کہ اس کا بھائی شدید زخمی حالت میں ہے پر کاش نرائن اسپتال میں داخل ہے۔

پولیس اطلاع کے مطابق گھرشتہ شب گلی شاہ تار میں ایک ہی خاندان کے دوکنبوں کے درمیان پرانے تنازع نے انتہائی بھیانک رخ اختیار کر لیا۔ اخلاق (۲۸) اور اشفاق (۲۵) سگے بھائی ہیں جن کے کنبے پہلی منزل پر رہتے ہیں۔ دوسری منزل پر ان کے چا محمد یاسین کا کنبہ رہتا ہے۔ کل یاسین کے گھر سے سیڑھیوں پر گندہ پانی پھینکا گیا جس پر اخلاق کے گھر والوں نے اعتراض کیا۔ اعتراض پر غلطی تسلیم کرنے کے بجائے بینہ طور پر مزید کوڑا اور پانی پھینکا گیا جس پر بات بڑھ گئی۔ محمد یاسین نے اخلاق کو دلوچ لیا اور فاضل اور اس کے بھائی عامل نے مبینہ طور پر چاقو سے اس پر حملہ کر دیا۔ اخلاق کو شدید زخمی حالت میں جے پر کاش نرائن اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زیر علاج ہے۔ زاہد، ذاکر، صابر اور محمد یاسین اور عاشق بھی جھگڑے میں شامل تھے۔ مار پیٹ کے دوران زاہد اور عاشق نے اشفاق کو پکڑ لیا اور صابر اور ذاکر نے اس پر حملہ کیا۔ اس بار بھی چاقو کا استعمال کیا گیا جس سے اشفاق شدید طور پر زخمی ہو کر لہو لہان ہو گیا۔ اسے بھی جے پر کاش نرائن اسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ حوض قاضی پولیس نے بلوہ کرنے، اقدام قتل، قتل اور اسلم ایکٹ کے تحت کیس درج کر لئے ہیں۔ مقامی پولیس نے محمد عامل کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ بقیہ ملزموں کی بڑے پیمانے پر تلاش کی جارہی ہے۔ (قومی آواز ۲۳ جون ۱۹۹۳)

یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت کی ایک مثال تھی۔ اب اس معاملہ میں پاکستان کے مسلمانوں

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page