تحمل کی ضرورت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳۶
کی ایک مثال لیجئے، وہاں کی ایک مطبوعہ خبر یہ ہے :
لاہور ، ۲۶ اپریل ۱۹۹۳ ـــــ اسلام پورہ کے علاقہ میں چار مسلح افراد نے شادی کے موقع پر پکنے والی دیگوں کا دھواں اپنے گھر آنے کی پاداش میں اندھا دھند فائرنگ کرکے اپنے ہمسایہ میں مقیم دولہا کے ۵۵ سالہ والد نذیر احمد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جس سے شادی کی تقریب میں شریک ہنستا بستا گھرانہ ماتم کدہ بن گیا اور جہاں خوشیوں کے شادیانے بج رہے تھے، وہاں صف ماتم بچھ گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ نذیر احمد کے بیٹے گلزار احمد کی شادی کے موقع پر اسلام پورہ میں ان کے گھر کے باہر دیگیں پکائی جارہی تھیں جن کا دھواں ساتھ والے گھر میں جارہا تھا جہاں رہائش پذیر عارف ڈوگر باہر آیا اور نذیر احمد سے کہا کہ یہ سلسلہ بند کرو کیوں کہ میرے اہل خانہ پریشان ہورہے ہیں۔ اس بات پر دونوں میں تلخ کلامی ہوگئی۔ تاہم محلہ داروں نے بیچ بچاؤ کروادیا۔ عارف ڈوگر چلا گیا لیکن دل میں رنجش رکھی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے ساتھیوں، جاوید اقبال اور ظفر اقبال ڈوگر وغیرہ کے ساتھ مسلح ہو کر آیا اور گھر کے باہر کھڑے نذیر احمد پر فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اسے میو اسپتال لایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔ اسلام پورہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ (نوائے وقت ، لاہور ، ۲۷ اپریل ۱۹۹۳ )
ایک معمولی بات پر اتنا بڑا جھگڑا کیسے پیدا ہوتا ہے کہ خون اور قتل اور پولیس اور عدالت تک معاملہ پہنچ جاتا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے، اور وہ تحمل اور بردداشت کی کمی ہے۔ ایک مقام پر جب دو خاندان یا دو گروہ رہتے ہوں تو ضرور مسائل پیدا ہوں گے۔ کبھی نہ کبھی ضرور ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچ جائے گی۔ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے۔ مگر اس مسئلہ کا حل مسئلہ سے ٹکرانا نہیں ہے بلکہ مسئلہ کو بردداشت کرنا ہے۔
یہاں آدمی کے لئے جو چوائس ہے وہ بے مسئلہ زندگی اور با مسئلہ زندگی کے درمیان نہیں ہے۔ بلکہ با مسئلہ زندگی اور بربادی کے درمیان ہے۔ آدمی کی عقلمندی یہ ہے کہ وہ چھوٹے مسئلہ کو بردداشت کر لے تاکہ وہ بڑے مسئلہ میں پھنسنے سے بچ جائے۔ ایک صحابی کا قول اس معاملہ میں ساری باتوں کا خلاصہ ہے۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو چند نصیحتیں کیں۔ ان میں سے ایک نصیحت یہ تھی کہ تم چھوٹی برائی کو بردداشت کرو تا کہ تم بڑی برائی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues