Al-Risala · September 1996 · page 337

تحمل کی ضرورت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳۷

سے اپنے آپ کو بچاسکو۔ انھوں نے کہا:

من لا يرضى بالتثيل مماياتى به السفيه جو شخص نادان کے چھوٹے شر پر راضی نہیں ہو گا يرضى بالكثير اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔

یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ہر انسان کو آزادی عطا کی ہے۔ ہم کسی سے اس کی آزادی کو چھین نہیں سکتے۔ اس لئے یہاں پر امن زندگی کے حصول کی عملی تدبیر صرف یہ ہے کہ ناخوشگوار معاملات میں نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کی جائے۔ اس دنیا میں آپ کو اپنی کو برداشت نہ کرویں تو خوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ اگر آپ دھوئیں کو برداشت نہ کریں تو آگ کو برداشت کرنا ہوگا۔ اگر آپ کڑوے بول کو برداشت نہ کریں تو جان و مال کی ہلاکت کو برداشت کرنا ہوگا۔

یہی دنیا ہے اور یہ دنیا خود خدا کی تخلیقی اسکیم کے تحت بنی ہے۔ جو آدمی دنیا کے اس نقشہ پر راضی نہ ہو اس کو ایک اور کائنات تخلیق کرنی چاہئے کیوں کہ خدا کی بنائی ہوئی کائنات میں تو اس کے سوا کوئی اور چیز ممکن نہیں۔

زندگی نام ہے برداشت کا۔ برداشت سے کام لینے والا اس دنیا میں زندہ رہتا ہے اور ترقی کرتا ہے۔ اور جو لوگ آپس کے تعلقات میں بے برداشت ہو جائیں، ان کے لئے اس دنیا میں نہ ترقی ہے اور نہ زندگی۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے نااہل رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں برداشت کی صفت کھودی ہے۔ وہ ہر معاملہ کو بس جہاد اور ٹکراؤ کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ کوئی بھی اشتعال انگیز بات ان کو بھڑکا دینے کے لئے کافی ہے۔ حالاں کہ اشتعال انگیزی پر مشتمل نہ ہونے ہی کا نام انسانیت ہے اور یہی دین کی تمام تعلیمات کا خلاصہ ہے۔ اس ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے ساتھ جو جھگڑے ہوتے ہیں، اس سے بہت زیادہ تعداد ان جھگڑوں کی ہے جو مسلمانوں اور مسلمانوں کے درمیان ہو رہے ہیں۔ مسلم مسلم جھگڑے اخباروں میں بہت کم چھپتے ہیں۔ جب کہ ہندو اور مسلم کے درمیان جھگڑا ہو تو وہ تمام اخبارات کے صفحہ اول پر چھپ جاتا ہے۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ مسلمان اور مسلمان کا جھگڑا دو آدمی یا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page