Al-Risala · September 1996 · page 338

تحمل کی ضرورت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳۸

دو خاندان تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے، اس لئے وہ بڑی خبر نہیں بنتا۔ جب کہ ہندو اور مسلمان کا جھگڑا فوراً دو فرقوں کا جھگڑا بن جاتا ہے۔ اس طرح وہ بڑی خبر کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ 1947ء سے پہلے جن مسلم لیڈروں نے تقسیم ملک کی تحریک چلائی ان کی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے برداشت کے مسئلہ کو بٹوارہ کا مسئلہ سمجھا۔ کسی ہندو اور کسی مسلمان میں کبھی کسی بات پر نزاع ہو گئی۔ تو وہ فوراً دو قومی نظریہ کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے۔ ان مسلم لیڈروں نے کہا کہ یہ جھگڑے اور دنگے اس لئے ہوتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان دو قوم ہیں، وہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ مگر جب ملک بٹ کر علیحدہ پاکستان بن گیا تو وہاں بھی جھگڑے اور فساد بدستور پوری شدت کے ساتھ موجود تھے۔ اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ جھگڑے ہندو اور مسلمان کے درمیان ہوتے تھے، اب وہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہونے لگے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کچھ لوگ مل جل کر رہیں تو ان کے درمیان بار بار کچھ ناخوشگوار باتیں پیش آ جاتی ہیں۔ ان باتوں کا حل علیحدگی نہیں ہے بلکہ برداشت اور نظر انداز کرنا ہے۔ اگر نہیں برداشت کیا جائے تو تقسیم کے بعد جب مسلمان اپنا علیحدہ ملک یا علیحدہ پاکٹ بنا لیں گے تو اصل حالت میں اس کے سوا کوئی اور فرق نہ ہوگا کہ پہلے جو مکروہ دو فرقوں کے افراد کے درمیان ہو رہا تھا وہ اب خود ایک فرقہ کے افراد کے درمیان ہونے لگے گا۔ آج یہی سب کچھ پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔

1947ء سے پہلے علیحدگی پسند لیڈروں نے مسلمانوں کو جو ذہن دیا تھا، بدقسمتی سے وہی ذہن آج بھی مسلمانوں کے درمیان موجود ہے۔ مسلمانوں کے نام نہاد رہنما اسی سابقہ ذہن کے تحت مسلمانوں کو فکری رہنمائی دینے میں مصروف ہیں۔ تقسیم کا نا کام تجربہ بھی ان کی آنکھ کھولنے کے لئے کافی نہیں ہوا۔

1947ء سے پہلے تقسیم پسند لیڈروں نے جغرافیائی علیحدگی کو ہند و مسلم مسئلہ کا حل بتایا تھا۔ آج کے مقلد لیڈر بھی کسی نہ کسی طور پر اسی علیحدگی کے طریقہ کو اس ملک میں مسلمانوں کے مسئلہ کا حل بتا رہے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ مسلمان اپنا کچمپلیٹ تشخص الگ قائم کریں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ مسلمان اپنی آبادیاں الگ کر کے اپنا علیحدہ پاکٹ بنائیں، کوئی کہہ رہا ہے کہ مسلمان ہو دفاعی کے اصول پر

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page