تحمل کی ضرورت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳۹
چل کر ہندوؤں کو سبق سکھائیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ مسلمان اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بنا کر اپنا تحفظ کریں۔ وغیرہ۔
اس قسم کی تمام باتیں سراسر نادانی کی باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے مسئلہ کا حل ۱۹۴۷ سے پہلے بھی یہی تھا کہ وہ مل جل کر رہنا سیکھیں۔ اور آج بھی یہی ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ حتی کہ مسلمان اپنا الگ ملک بنوالیں تو وہاں بھی مسئلہ کا حل مل جل کر رہنا ہی ہوگا۔ اور اگر وہ اس ملک میں جگہ جگہ اپنی آبادیاں علیحدہ کرلیں تو اس علیحدہ آبادی میں بھی یہی اصول اختیار کرنا ہوگا۔ ورنہ وہ ایک برباد انسانی گروہ بن کر رہ جائیں گے۔ اور کبھی ترقی نہ کر سکیں گے۔
اس سلسلہ میں ایک نہایت عجیب حقیقت یہ ہے کہ برصغیر ہند کے مسلمان جو اپنے وطن میں آپس میں بھی لڑتے ہیں اور اپنے غیر مسلم پڑوسیوں سے بھی لڑتے ہیں، یہی مسلمان جب عرب ملکوں میں یا یورپ اور امریکہ میں جاتے ہیں تو وہاں وہ خوب صلح و آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہمارے علماء بھی جو اپنے ملک میں ایک نہ ایک اشتعال انگیز جلسہ جلوس کے ہنگامے برپا کرتے ہیں ہیں۔ یہی لوگ عرب ملکوں میں جاتے ہیں تو وہاں اختلافی معاملات میں وہ بالکل خاموش رہتے ہیں۔ حالاں کہ عرب ملکوں میں وہ تمام مسائل پوری طرح موجود ہیں جو برصغیر ہند میں پائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے عوام و خواص اگر اس دو عملی کو ختم کر دیں۔ وہ صرف اتنا کریں کہ عرب ملکوں میں اور یورپ اور امریکہ میں وہ جس طرح صلح و آشتی کے ساتھ رہتے ہیں، اسی طرح وہ اپنے ملک میں بھی رہنے لگیں تو اچانک ان کا اپنا ملک بھی ان کے لئے اتنا ہی اچھا ہو جائے گا جتنا کہ دنیا کا کوئی دوسرا ملک انھیں اچھا نظر آتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues