سفر نامہ برطانیہ۔ ۳
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۲
سفر نامہ برطانیہ۔ ۳
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی میں اصل اہمیت خارجی سہولت کی نہیں ہے بلکہ ذاتی شوق کی ہے۔ آدمی کے اندر ذاتی شوق ہو تو وہ مشکلوں میں بھی اپنا راستہ بنا لے گا۔ اور اگر ذاتی شوق نہ ہو تو سہولتوں کی فراوانی بھی ایسے آدمی کے لیے بے فائدہ ثابت ہوگی۔ لندن سے حال ہی میں ایک کتاب چھپی ہے۔ اس میں تفصیل کے ساتھ تقسیم ہند کے واقعات کا ذکر ہے۔ اس کے مصنف مسٹر اینڈریو رابرٹس ہیں:
Andrew Roberts, Eminent Churchillians
اس کتاب میں ہندوستان کے آخری برٹش وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر مصنف نے لکھا ہے کہ آزادی کی تاریخ ابتدا یکم جولائی ۱۹۴۸ مقرر کی گئی تھی ۔ مگر ماؤنٹ بیٹن نے اچانک تاریخ بدل کر ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کر دی۔ اس جلد بازی کا نتیجہ پنجاب کے علاقہ کا خونی فساد آگست۔ اکتوبر ۱۹۴۷ تھا۔ کیوں کہ اس وقت پنجاب میں بہت کم فورس تھی۔ کتاب میں سر جارج کٹنگھم کا قول نقل کیا گیا ہے :
The Punjab disturbances were the direct result of Mountbatten's unwisdom in accelerating the date of partition so suddenly. اس وقت پنجاب میں ۲۳ ہزار پولیس فورس موجود تھی جس کو اٹھارہ ہزار بستیوں میں چودہ ملین انسانوں کو کنٹرول کرنا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ ناکافی تھا اور وقت کی کمی کے باعث مزید فورس منگائی نہ جا سکی۔ مگر یہ ناگزیر تھا۔ کیونکہ جنگ کے نتیجہ میں برطانیہ کے پاس فورس باقی نہیں رہی تھی ۔ لندن سے نکلنے والے ماہنامہ صراط مستقیم (نمبر ۲ - ۱۹۹۴) میں ایک سرخی تھی : برطانوی مسلمان طلبہ کی مشکلات۔ اس کے تحت درج تھا کہ ہفت روزہ "کیونیوز" کی ایک رپورٹ کے مطابق سلاؤ شہر میں اسکول کے ایک ۱۳ سالہ طالب علم فیض شریف کو مخلوط رقص کی کلاس میں شرکت سے انکار پر دو ماہ کے لئے کلاس سے خارج کر دیا گیا۔ اسکول کی ہیڈ مسٹرس نے فیض شریف کو اسکول سے خارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمان مقامی کلچر سے ہم آہنگ ہو نا نہیں چاہتے۔ صراط مستقیم نے لکھا تھا کہ اس خبر کا یہ روشن پہلو ہے کہ مغربی معاشرہ میں رہتے ہوئے بھی ایسے خاندان ہیں جو اپنے بچوں کو اسلامی بنیادوں پر تربیت دے رہے ہیں۔ مگر دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایسے مسلمان بچوں
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues