Andrew Roberts, Eminent Churchillians
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶
انھوں نے کہا کہ مغرب کی سیاست کسی مذہب کے ساتھ دشمنی پر قائم نہیں ہے بلکہ خود اپنی مصلحت (interest) پر قائم ہے (ان سياسة الغرب لا تقوم على التعصب بل تقوم على المصلحة)، انھوں نے کہا کہ اہل مغرب اپنے مزاج کے تحت کھلے دل سے اسلام کا مطالعہ کرنے کے لئے تیار ہیں مگر ان کے عقل معیار کے مطابق اسلامی لٹریچر ہمارے یہاں موجود ہی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ مغربی تہذیب کے متعلق ہم جو کچھ لکھتے ہیں وہ بالکل سطحی ہوتا ہے جس پر یہ لوگ ہنستے ہیں۔ ہم گہرائی کے ساتھ نہ ان کے بارہ میں لکھتے ہیں اور نہ اپنے بارہ میں۔ جب کہ ان میں بہت سے ارباب فہم ہیں جو کھلے ذہن کے ہیں۔ وہ ہم سے سننا چاہتے ہیں اور ہمارے بارہ میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ حتیٰ کہ خود اپنے خلاف تنقید کو بھی۔ یہ حقیقت ہے کہ ہماری کتابیں کسی بھی درجہ میں ان کے لئے چیلنج نہیں ہیں (ان ما كتبه عن هذه الحضارة شئى سطحي يثير ضحك هؤلاء الناس وربما سخر يتم فنحن لا نكتب بعمق عنهم او عن أنفسنا ابداً. مع ان كثير من مفكريعم ذوى عقل مفتح يريدون أن يسمعو ا منا ويقر أو لنا حتى في باب النقد لهم - ان كتاباتنا بصراحة لا تمثل تحديا فكريا للغرب على اى مستوى (صفحه ۱۳)
4 اگست کا دن مانچسٹر میں عرب نوجوانوں کے ساتھ گزارا۔ اگلے دن صبح کو فجر کی نماز کے بعد میں اپنے کمرہ میں دیر تک کچھ پڑھتا لکھتا رہا۔ جب بخوبی دن نکل آیا تو میں اس کمرہ میں گیا جس میں چند عرب نوجوان سو رہے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ ابھی تک سو رہے ہیں۔ صبح کو سویرے نہ اٹھنا ہر روز اپنا کئی گھنٹہ ضائع کرنا ہے۔ اور وقت ایسی چیز ہے جس کو عربی مثل میں تلوار سے تشبیہ دی گئی ہے چنانچہ کہا گیا ہے کہ وقت تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم اس کو نہ کاٹو تو وہ تم کو کاٹ ڈالے گا (الوقت كالسيف ان لم تقطعه قطعك )
اگست ۴ ۱۹۹۴ کی تاریخ ہے اور ساڑھے بارہ بجے کا وقت۔ بادلوں کے درمیان ہلکی دھوپ نکلی ہوئی ہے۔ موسم نہایت خوشگوار ہے۔ میں دو عرب نوجوانوں کے ساتھ مانچسٹر کے الگزینڈرا پارک میں بیٹھا ہوا ہوں۔ میں نے کہا کہ انگریزوں نے دنیا میں وسیع ترین سلطنت قائم کی حتی کہ شاید سلم سلطنت سے بھی زیادہ بڑی۔ مگر اس وسیع سلطنت میں کبھی کسی انگریز نے رووٹ نہیں کیا، جبکہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues