Andrew Roberts, Eminent Churchillians
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۷
مسلمانوں کی پوری تاریخ ردولت سے بھری ہوئی ہے۔ خلیفہ اول کے زمانہ میں یعنی قبائل نے مرکز سے رودوٹ کیا جس کو رة کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد ساری تاریخ میں مسلسل ایسا ہوتا رہا ہے کہ جس شخص کو جہاں موقع ملا اس نے مرکز سے بغاوت کر دی اور اپنی چھوٹی سی حکومت الگ بنا کر بیٹھ گیا۔ موجودہ زمانہ میں پاکستان میں یہی ہوا جب کہ بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) نے مرکز سے بغاوت کر کے اپنی علیحدہ حکومت قائم کر لی۔
انھوں نے پوچھا کہ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ میں اس سبب کو بیان کر رہا تھا اور عرب نوجوان ٹیپ ریکارڈر ہاتھ میں لئے ہوئے اس کو ریکارڈ کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک شخص گزرا جو بظاہر افریقی تھا، اس نے پوچھا کہ کیا یہ کوئی اخباری انٹرویو ہے۔
کچھ دیر کے بعد دو سفید فام نوجوان آئے۔ وہ ۱۴-۱۵ سال کی عمر کے ہوں گے۔ وہ کسی قدر جھومنے کے انداز میں چل رہے تھے۔ ان کے جسم پر معمولی لباس تھا۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں آپ کو دھوکا نہیں دے رہا ہوں، ہم لوگ بھوکے ہیں۔ کیا آپ ہمیں کچھ پیسہ دے سکتے ہیں: I am not cheating, but we are a bit hungary. Can you give us some ایک عرب نوجوان نے سوال کیا کہ ابھی یہاں آتے ہوئے میں اپنی گاڑی میں قرآن کی تلاوت سن رہا تھا۔ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ قرآن کے مطابق ، انسان کو جب اختیار دیا جاتا ہے تو وہ فساد برپا کرتا ہے۔ پھر جو لوگ جنت میں جائیں گے کیا ان سے اختیار سلب کر لیا جائے گا تاکہ وہ وہاں فساد نہ کر سکیں، میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ کون لوگ جنت میں جائیں گے۔ جنت میں وہ لوگ جائیں گے جنھوں نے اس دنیا میں یہ ثابت کیا کہ وہ فساد کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ خواہ انھیں مکمل آزادی دیدی جائے۔ پھر جن لوگوں نے اس وقت فساد نہیں کیا جب کہ خدا حالت غیب میں تھا، وہ اس وقت کیسے فساد کریں گے جب کہ خدا حالت شہود میں آ جائے گا :
من هم الذين سيدخلون الجنة في الآخرة. الذين أثبتوا فى هذه الدنيا انهم سيفعلون يستعملوا حبية الان و ادولہ کانت عند هم حمدہ قدره كاملة
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues