Andrew Roberts, Eminent Churchillians
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۸
ایک اور عرب نوجوان نے سوال کیا کہ قرآن کی آیت اذا تمنی القی الشیطان فی امنیته (الحج : ۵۲) کے حوالہ سے ایک مستشرق نے لکھا ہے کہ رسول کے کلام میں کبھی کبھی شیطان اپنی بات ملا دیتا تھا۔ مفسرین نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ پھر اس کا کیا مطلب ہے۔ کیا رسول بھی شیطان کی مداخلت سے محفوظ نہ تھے۔ میں نے کہا کہ امنیة کا لفظ یہاں تلاوت کے معنی میں ہے۔ یعنی پیغمبر نے جب تلاوت کی تو شیطان نے اس کی تلاوت میں ملا دیا۔ یہاں جو بات کہی گئی ہے وہ تلاوت کے بارہ میں ہے۔ مگر لوگوں نے اس کو وحی (نص کلام) سے متعلق کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے تو وہی بات نکلی تھی جو آپ پر وحی کی گئی ہے۔ مگر جب آپ اس کی تلاوت کرتے اور وہ لوگوں کے درمیان شائع ہو جاتی تو کچھ فتنہ پسند لوگ آپ کے کلام کی غلط تاویل کر کے اس کے بارہ میں الٹی باتیں مشہور کرنے کی کوشش کرتے۔ گویا کہ یہ الہامی تلاوت نہیں تھی بلکہ تفسیری تلاوت تھی۔ عرب نوجوانوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ ایک نو مسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھ سے بہت سے گناہ ہو گئے ہیں۔ کیا میری مغفرت ہو جائے گی۔ آپ نے فرمایا گیا تم کو نہیں معلوم کہ اسلام پچھلے اعمال کو ختم کر دیتا ہے (الاسلام یہدم ما قبلہ) ایک طرف آپ نے یہ خبر دی ہے۔ دوسری طرف حدیث میں ہے کہ لا الہ الا اللہ کہہ کر اپنے ایمان کو نیا کرتے رہو (جددوا ایمانکم بقول لا الہ الا اللہ)
اس میں ہمارے لئے ایک تسلی ہے۔ جب ایمان سے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور ایمان کی تجدید کا موقع بھی ساری عمر تک ہے، تو ہم کو چاہئیے کہ ہم بار بار کلمہ شہادت ادا کریں اور اللہ تعالی سے کہیں کہ خدایا، تیرے رسول کی خبر کے مطابق، میں اپنے ایمان کی تجدید کر کے پھر سے اسلام میں داخل ہوتا ہوں، تو میرے پچھلے تمام گناہوں کو میرے نامہ اعمال سے حذف کر دے۔ ۱۹۹۳ میں نیو یارک سے قرآن کا ایک نیا انگریزی ترجمہ چھپا ہے۔ اس کے مترجم ٹامس کلیری (Thomas Cleary) ہیں۔ اس کا ایک نسخہ میں نے مانچسٹر میں دیکھا۔ یہ نہایت معیاری انداز میں چھپا ہے اور بہت خوبصورت ہے۔ اس کے انٹروڈکشن میں مترجم لکھتے ہیں کہ قرآن بلا تردید عظیم اہمیت کی کتاب ہے۔ حتی کہ غیر مسلموں کے لئے بھی، شاید آج اس کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues