Al-Risala · September 1996 · page 39

Andrew Roberts, Eminent Churchillians

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۹

ان الفاظ میں مترجم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مذاہب کے مطالعہ کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے، اس بنا پر اسلام کا مطالعہ بھی آج زیادہ سے زیادہ لوگ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی غالباً اس تاریخی عمل کا ایک جزو ہے جس کو حدیث میں ادخال کلمہ کہا گیا ہے۔ تاہم کسی غیر مسلم کا ترجمہ خواہ مترجم کتنا ہی سنجیدہ ہو، وہ غلطیوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔ مثلاً اس ترجمہ میں فالذين هاجروا (آل عمران ۱۹۵) کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے: الجزائر کی سالویشن پارٹی (جبهة الانقاذ) سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان سے مانچسٹر میں ملاقات ہوئی۔ یہ لوگ عام طور پر اپنی پارٹی کوفس (FIS) کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اپنی حکومت کے خلاف لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ مسلمانوں کے لئے اپنے حکمران کے خلاف خروج کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم انتخابات میں جیت رہے تھے۔ مگر ان حکمرانوں نے انتخابات کو منسوخ کرکے زبردستی ملک میں اپنی حکومت قائم کرلی۔ میں نے کہا کہ یہ تو لڑائی کے لئے وجہ جواز نہیں۔ کیوں کہ حدیث میں ہے کہ تم اپنے حکمران کی اطاعت کرو، خواہ وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑا مارے اور خواہ وہ تمہارا مال چھین لے (و ان جلد ظهرك و اخذ مالك) پھر انتخابات کی منسوخی تو اس سے بہت چھوٹی زیادتی ہے۔ کیوں کہ انتخابات کی منسوخی کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے آپ کو سیاسی اقتدار تک پہنچنے کا راستہ روک دیا۔ مگر آپ کی پیٹھ اور آپ کا مال تو پھر بھی محفوظ تھا۔

انھوں نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ وہ الجزائر میں کس طرح ہم کو نار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کو انصاف سے کام لینا چاہئے، کیوں کہ قرآن میں ہے کہ ولا يجر منكم شنآن قوم علیٰ ان لا تعدلوا اعدلوا۔ آپ کے حکمرانوں نے آپ کو مارنے کا سلسلہ اس وقت شروع کیا جب کہ آپ نے ان کے خلاف سیاسی لڑائی چھیڑ دی۔ اگر شریعت کے مطابق آپ ان سے ٹکر اؤ چھوڑ دیں تو وہ بھی آپ کو سیاست کے سوا دوسرے تمام میدانوں میں عمل کے لئے آزاد چھوڑ دیں گے، جیسا کہ موجودہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page