Al-Risala · September 1996 · page 40

Andrew Roberts, Eminent Churchillians

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۰

سیاسی ٹکراؤ سے پہلے وہ آپ کو آزاد چھوڑے ہوئے تھے۔

۷ اگست کو میں مانچسٹر میں تھا کہ ۱۰ بجے ایک عرب نوجوان (عادل الریانی) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ پریسٹن میں اپنی انگلش بیوی کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ کچھ دیر تک مجھ سے لپٹ کر روتے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ یکم اگست ۲۰۰۳ء کو وہ پریسٹن کی مسجد قوت الاسلام میں گئے۔ اس وقت وہ مقفل تھی۔ اس کے منتظم سے انھوں نے کہا تو اس نے مسجد کا تالا کھول دیا۔ عادل الریانی نماز پڑھ کر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ان کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔ انھوں نے دیکھا تو ایک سفید فام نوجوان تقریباً ۳۰ سال، کھڑا ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ معاف کیجئے، میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں: Excuse me, I want to become a Muslim. عادل الریانی نے فوراً مسجد سے نکل کر ایک اور مسلمان کو بلایا اور پھر کلمہ پڑھا کر اس کو اسلام میں داخل کیا۔ اس کے بعد وہ بہت زیادہ خوش ہو گیا۔ اس کا اسلامی نام عمران ہے:

Imran Maynard, 42 Healthfield Drive, Brookfield, Preston. (Tel. 0772-651991)

مسلمان صدیوں سے اسلامی دعوت کو چھوڑے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر رحم آیا۔ اس نے لوگوں کے دلوں میں اسلام کی طلب پیدا کر دی۔ اب وہ خود اسلام قبول کر رہے ہیں۔

ایک تعلیم یافتہ عرب جو کافی عرصہ سے انگلینڈ میں رہتے ہیں، انھوں نے کہا کہ انگریز لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے امن پسند ہیں۔ ان کا خمیر آدمی بھی حد کے اندر رہتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کے کتے بھی تڑپ ہوتے ہیں۔ وہ لڑائی کو پسند نہیں کرتے، وہ کسی بھی جارحیت والی چیز کو پسند نہیں کرتے (ہم لا يحبون الحرب هم لا يحبون اي شئ عدواني)

میں نے خود اپنے تجربہ میں بھی کئی ایسی چیزیں دیکھیں جس سے محسوس ہوا کہ کم از کم فکری اعتبار سے یہاں کا پسندیدہ کلچر امن کلچر ہے۔ ایسے لوگوں کے سامنے دین کو اس انداز میں پیش کرنا کہ وہ لوگوں سے لڑ کر ساری دنیا میں اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے، سراسر غیر حکیمانہ ہے۔ ایسا مذہب ان لوگوں کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اس سے قطع نظر کہ اسلام کی یہ سیاسی تعبیر صحیح ہے یا غلط، یہ اس حدیث

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page