A chance to make dream come true.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۷
خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۱۴
قاہرہ کے اخبار ایجپشین گزٹ (The Egyptian Gazette) کے ایڈیٹر انچیف ایم علی ابراہیم (2831040 .Tel) نے ۱۸ مارچ ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق ہندوستان اور عالم اسلام کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستان میں جمہوریت ہے اور مکمل آزادی حاصل ہے۔ چنانچہ یہاں مختلف اسلامی ادارے، بشمول اسلامی مرکز، آزادانہ طور پر اسلامی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
۲ نئی دہلی کے ہندی اخبار وی جی ٹائمز کے نمائندہ مسٹر شاہد رضانے ۱۹ مارچ ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ مسجد کے امام کے بارہ میں شرعی احکام کیا ہیں۔ اس سلسلہ میں ضروری تفصیلات بتائی گئیں۔ ۳ ایجنسی فرانس پریس (A.F.P) کے نمائندہ مسٹر ابھیک چندانے ۲۳ مارچ ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی سماجی اور تعلیمی حالات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کوئی سیاسی پارٹی مسلمانوں کے مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمان اپنی کیوں کو دور کریں۔ یہ تفصیلی انٹرویو ٹیلیفون پر ریکارڈ کیا گیا۔
۴ پر کہ ٹی وی ٹیم نے ۲۵ مارچ ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق اسلام میں عورتوں کے مسائل نے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ موجودہ مسلم سماج میں عورتوں کو جو مسائل پیش آرہے ہیں، ان کا سبب اسلام کا قانون نہیں ہے اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی مسلم عورتیں تعلیم میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ موجودہ تمام مسائل اسی پچھڑے پن کے نتائج ہیں۔
۵ انگریزی روزنامہ پائیریر کے نمائندہ مسٹر اعجاز اشرف نے ۲۸ مارچ ۱۹۹۶ کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اپریل - مئی ۱۹۹۴ کے الیکشن سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اس الیکشن میں کسی ایک پارٹی کو مطلق اکثریت
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues