Al-Risala · October 1996 · page 22

ایک اقتباس

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۲

ایک اقتباس

سعودی عرب کے مشہور اخبار المسلمون میں ایک بڑے سعودی عالم کے حوالے سے ایک سوال و جواب چھپا ہے۔ یہ سوال و جواب اور اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے :

اھل السنة .. تشترطون للخروج على الحاكم قدرة التغير دون إحداث ضرر، ولكن هناك فريقا في هذه الايام يرى ان هذا المنهج متخاذل ولا يصلح لهذا العصر ما رايك؟

- هذا من كلام الشيطان.. الذين يسولون ان التغير لا تشترط معه القدرة فهم ليسوا متخاذلين فحسب، بل لقد املاهم الشيطان اقوالا ويريدون ان يؤمن بها الناس، وعموما لا يوجد شيء اسمه ثورة اسلامية الا اذا كان هناك ما يسمى " كباريه شرعی". الاسلام نصيحة وليس انقلابا. (المسلمون (جدة) - ۲۸ اپریل (۱۹۹۵م) ترجمہ س : حاکم وقت کے خلاف خروج کے سلسلہ میں اہل سنت یہ شرط لگاتے ہیں کہ اس کے لیے کوئی نقصان برپا کیے بغیر تبدیلی لانے کی قدرت کا پایا جانا ضروری ہے۔ لیکن آج کل ایک فریق کا خیال ہے کہ یہ بے ہمتی کا طریقہ ہے اور موجودہ زمانہ کے لائق نہیں۔ اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے ۔

ج : یہ ایک شیطانی بات ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ تبدیلی کے لیے اس کی قدرت کی شرط نہیں ہے وہ خود نہ صرف بے ہمت ہیں، بلکہ شیطان نے ان کے ذہنوں میں کچھ باتیں ڈال دی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ لوگ بھی ان پر ایمان لے آئیں ۔ دنیا میں ایسی کسی چیز کا مطلق وجود نہیں جس کا نام اسلامی انقلاب ہو ، الا یہ کہ یہاں کوئی ایسی چیز پائی جائے جو " شرعی کیبرے “ کے نام سے موسوم ہو۔ اسلام نصیحت ہے نہ کہ کوئی انقلاب ۔

" اسلام نصیحت ہے نہ کہ انقلاب “ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام انقلاب نہیں ہے، وہ صرف نصیحت ہی نصیحت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی عمل کا آغاز نصیحت و تلقین سے ہوتا ہے نہ کہ انقلابی اکھڑ پچھاڑ سے نصیحت کے ذریعہ پہلے افراد کے ذہن کو بدلا جاتا ہے۔ ان کے اندر آمادگی پیدا کی جاتی ہے۔ جب یہ کام بڑے پیمانے پر ہو چکا ہو، اس کے بعد فطری طور پر وہ وقت آجاتا ہے کہ وہ اجتماعی نتیجہ رونما ہو جس کو انقلاب کہا جاتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page