سفرنامہ برطانیہ۔ہم
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۳
سفرنامہ برطانیہ۔ہم
برمنگھم کے ایک اسٹور میں داخل ہوا۔ یہ فیریکس روڈ پر واقع ہے۔ اس میں ہر قسم کی گھریلو چیزیں برائے فروخت موجود تھیں ۔ اس اسٹور کا نام تھا ڈومیسٹکس (Domestiks) مذکورہ قسم کے اسٹور کے لئے یہ نام بہت موزوں معلوم ہوا۔ میں نے سوچا کہ ڈومیسٹکس جیسا ایک لفظی نام اردو میں بناؤں ۔ مگر کوئی مناسب لفظ سمجھ میں نہ آیا۔ اسی طرح یہاں چوکر سمیت گیہوں کا بسکٹ بنایا جاتا ہے جو کھانے میں بہت ہلکا اور مفید ہے اس کا نام ہوتا ہے (Whole Wheat biscuit) اس کو بھی میں نے اردو میں کہنا چاہا۔ مگر کوئی لفظ میں وضع نہ کر سکا۔ اردو میں شاعرانہ ترکیبیں بنانا آسان ہے، مگر سائنٹفک ترکیبیں بنانا بہت مشکل۔
۸ اگست کو کار ڈف (Cardiff) میں پروگرام تھا۔ شام کو چار بجے برمنگھم سے کارڈف کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ بذریعہ کار دو گھنٹہ کا سفر تھا جو ویلس (Wales) کے علاقہ سے گزرا۔ یہ یہاں کا بہت خوبصورت علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ سڑک کے دونوں طرف سبز پوش پہاڑیاں اور ہرے بھرے میدان دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ مگر سر میں چکمہ کی کیفیت کی وجہ سے کار کی پچھلی سیٹ پر لیٹ گیا اور راستہ کے ان خوبصورت مناظر کو دیکھ نہ سکا۔ دنیا میں آدمی کو اگر تمام سامان راحت مل جائے تب بھی اپنی محدودیت کی وجہ سے کسی کے لئے یہاں کی راحتوں سے لطف اندوز ہونا ممکن نہیں۔
کارڈف میں داخل ہو کر پہلے ہم لوگ جناب اقبال احمد صاحب کی رہائش گاہ پر کچھ دیر کے لئے ٹھہرے۔ انھوں نے بتایا کہ کارڈف شہر میں مسلمانوں کے تقریبا آٹھ ہزار خاندان آباد ہیں۔ مسجدیں چھ ہیں۔ مغرب کے قریب تک اقبال احمد صاحب سے گفت گو ہوتی رہی۔ وہ نہایت با صلاحیت آدمی ہیں اور اسی کے ساتھ گہرا دینی جذبہ رکھتے ہیں۔ وہ یہاں ایک اچھی سروس میں ہیں۔ مگر اب پیشگی ریٹائرمنٹ لے کر "دعوہ ورک" میں مشغول ہونا چاہتے ہیں۔ مغرب کی نماز کناٹ روڈ (Connaught Road) کی مسجد میں پڑھی۔ اسی مسجد میں خطاب کا پروگرام تھا اور اچھا خاصا اجتماع موجود تھا۔ بہت سے لوگ دور دور سے آئے تھے۔ نماز کے بعد میں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues