سفرنامہ برطانیہ۔ہم
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۵
ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس دنیا کا ہر ذرہ اور ہر چھوٹی بڑی چیز ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ مثلاً سیب کے دس ہزار بیج کو لیا جائے اور خوردبین میں اس کو بڑا کرکے دیکھا جائے تو ہر بیج ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دے گا۔ نیچر (فطرت) میں اتنا زیادہ تنوع ایک طرف ارتقا کی تردید ہے، کیوں کہ مفروضہ ارتقائی عمل یکسانیت کو چاہتا ہے نہ کہ تنوع کو۔ اور دوسری طرف وہ بتاتا ہے کہ کتنا عجیب قدرت والا ہے وہ خدا جس نے اتنی بڑی کائنات بنائی اور اس کو اس طرح بنایا کہ اس کی ان گنت چیزیں سب کی سب ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔
8 اگست کی دوپہر کو برمنگھم کے مضافات میں گیا جس کو یہاں کی اصطلاح میں کنٹری سائیڈ کہا جاتا ہے۔ مغربی ملکوں میں کنٹری سائیڈ نہایت خوبصورت ہوتا ہے۔ جناب شمشاد خاں صاحب کا یہاں بہت بڑا مکان ہے۔ یہاں وہ دس سال تک رہے ہیں۔ اب وہ اس کو چھوڑ کر شہر میں نسبتاً چھوٹے مکان میں رہتے ہیں۔ ایک صاحب نے اس کو دیکھ کر کہا: آپ اتنا اچھا گھر چھوڑ کر کیسے چلے گئے۔ میں نے کہا کہ آپ اچانک اس گھر کو دیکھ رہے ہیں اس لئے وہ آپ کو پرکشش معلوم ہو رہا ہے۔ اگر آپ گھر کو حاصل کرلیں اور اس میں رہنے لگیں تو کچھ ہی دنوں بعد آپ کے لئے اس کی جذابیت ختم ہو جائے گی۔ اس دنیا میں کوئی چیز اسی وقت تک پرکشش ہے جب تک وہ مل نہ ہو۔ ملنے کے بعد ہی آدمی کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس کی کشش ختم ہو گئی۔
کارڈف میں پاکستان سے آئے ہوئے ایک مسلمان رہتے ہیں۔ ان کا نام مسٹر انور شیخ ہے۔ انھوں نے ۱۹۹۰ میں ایک کتاب چھاپی ہے جس کا نام ابدیت (Eternity) ہے۔ ۳۸ صفحہ کی کتاب میں اسلام کے بارہ میں نہایت باغیانہ قسم کے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ پہلے میں کٹّر مسلمان تھا۔ پھر پاکستان میں میں نے دیکھا کہ اسلام ایک مذاق بن گیا ہے۔ وہ سیاستداں کے لئے ذریعہ توست ہے اور ملاّ کے لئے ذریعہ معاش۔ شفاعت کے عقیدہ کی وجہ سے کوئی بھی اچھے اخلاق کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ سب یہی کہتے ہیں کہ محمد عربی ہماری سفارش کر دیں گے اور ہم سیدھے جنت میں چلے جائیں گے۔
مصنف سے میری ملاقات نہ ہوسکی۔ البتہ ان کی کتاب میں نے دیکھی۔ اس کتاب کا خلاصہ خود ان کے الفاظ میں یہ ہے کہ خدا انسان ہے اور انسان خدا ہے (God is man and man is God)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues