Al-Risala · October 1996 · page 27

سفرنامہ برطانیہ۔ہم

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۷

کسی سے بات کی۔ نہ ادھر اُدھر دیکھا۔ حتیٰ کہ چائے پیتے ہوئے بھی اپنا کام جاری رکھا۔ وہ اس طرح کام کرتا ہے جیسے مشین کا بٹن دبا دیا جائے اور وہ بند کئے جانے تک مسلسل چلتی رہے۔ اس کا نام بلی (Billy) تھا۔ وہ مہینہ میں دو بار یہاں آتا ہے اور ایک بار کا ۳۰ پونڈ لیتا ہے۔ یورپی قوموں میں یہ صفت ان کے معمولی ورکر سے لے کر اعلیٰ عہدیداروں تک پائی جاتی ہے۔ ان کا یہی قومی کردار ان کی ترقی کا راز ہے، نہ کہ کوئی سازش جس کا انکشاف ہمارے دانشور اکثر عارفانہ انداز میں کیا کرتے ہیں۔

برمنگھم میں اسلامک پروپیگیشن سنٹرانٹرنیشنل (IPCI) دعوت کے میدان میں بہت عمدہ کام کر رہا ہے۔ میں نے اس کا مرکز دیکھا۔ یہ مرکز اپنی ترتیب اور اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے پورے طور پر یورپی معیار کے مطابق ہے۔

انھوں نے انگریزی میں بہت سا لٹریچر شائع کیا ہے۔ ایک پمفلٹ کا ٹائٹل یہ ہے کہ بائبل محمدؐ کے بارے میں کیا کہتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بائبل کا جو قدیم عبرانی ایڈیشن ہے، اس میں آج بھی’’ محمدؐ‘‘ کے نام سے پیغمبر آخرالزماں کی پیشین گوئی موجود ہے۔ اس پمفلٹ میں عبرانی نسخہ کے اصل الفاظ شائع کئے گئے ہیں۔ پمفلٹ میں بتایا گیا ہے کہ محمدؐ کا ذکر اپنے نام کے ساتھ امثال سلیمان میں موجود ہے۔ عبرانی لفظ جو اس میں استعمال کیا گیا ہے وہ محمدہم ہے : Muhammad is mentioned my name in the Song of Solomon (5:16) The Hebrew word used there is Mahammuddim, translated as ‘altogether lovely’ in the authorised version of the Bible or ‘The Praised One’ i.e. Muhammad. اخبار جنگ کا لندن ایڈیشن (۱۹ اگست ۱۹۹۴) دیکھا۔ اس کے درمیانی صفحہ پر جناب خرم مراد صاحب کا مضمون تھا۔ اس میں پاکستان کی بربادی کی ذمہ داری پاکستان کے سیاسی لیڈروں کے اس غلط فیصلہ پر ڈالی گئی تھی کہ انھوں نے امریکہ سے تعلق قائم کر لیا (جو کہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن تھا، اکتوبر اور نومبر ۱۹۵۳) میں جنرل ایوب کی واشنگٹن یاترا کے بعد ۱۹ مئی ۱۹۵۴ کو پاکستان کی فوجی امداد کی درخواست قبول کر کے امریکہ نے امریکہ۔ پاکستان باہمی دفاعی معاہدہ پر دستخط کر دئے۔ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم دانشور اسی قسم کے انکشافات میں مشغول ہیں۔ کوئی اس

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page