Al-Risala · October 1996 · page 28

سفرنامہ برطانیہ۔ہم

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۸

واقعہ کو دریافت نہ کر سکا کہ مذکورہ قسم کا شدید تر معاہدہ امریکہ اور جاپان کے درمیان دوسری عالمی جنگ کے بعد ہوا۔ مگر یہ معاہدہ جاپان کو ترقی سے نہ روک سکا۔ پھر ایسا نسبتاً ایک کمتر معاہدہ پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ کیسے بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی ترقی ان کی داخلی طاقت پر منحصر ہے نہ کہ کسی قسم کے بیرونی معاہدہ پر۔

لندن کے اردو روزنامہ جنگ (19 اگست (199) میں مسٹر مقیم احمد کا بیان چھپا ہوا تھا کہ" بتھنل گرین کے علاقہ میں ایشیائی تاجروں کا تناسب 35 فی صد سے زائد ہے۔ مگر ان تاجروں کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے ڈاکٹر تصدیق حسنی سے بات کی جو یہاں 20 سال سے زیادہ عرصہ سے رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ ہے کہ برطانیہ کے سفید فام باشندے ہم لوگوں سے امتیاز برتتے ہیں۔ ہم کو ہائر جاب نہیں دیا جاتا۔ اور اگر کوئی آدمی سروس میں پہنچ جائے تو اس کو پروموشن نہیں ملتا۔ البتہ یہ نمایاں صورت میں نہیں ہے۔ اس کو آپ مخفی امتیاز (hidden discrimination) کہہ سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے امتیاز کے کئی ذاتی تجربے بتائے۔

برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دو ملین ہے۔ اگر ان مسلمانوں سے ملئے تو وہ طرح طرح کی شکایتیں بیان کریں گے۔ لندن کے ایک مسلم دانشور نے برطانی مسلمانوں کا ایک اجتماع کیا اور اس میں مسلم پارلیمنٹ بنانے کا اعلان کر دیا جو برطانی مسلمانوں کے مسائل کو حل کرے گی۔ برٹش میڈیا نے اس پر تنقید کی اور کہا کہ ایک ملک میں دو پارلی منٹ نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد یہاں کے مسلمان اس تحریک سے بے تعلق ہو گئے اور مسلم پارلی منٹ کی بات ہوا میں تحلیل ہو کر رہ گئی۔ ہندوستان کے مسلمان بھی اگر اپنے جذباتی لیڈروں کے ساتھ یہی معاملہ کریں تو یہاں بھی جھوٹی لیڈڑی کی جڑ کٹ جائے اور فرقہ وارانہ جھگڑے اپنے آپ ختم ہو کر رہ جائیں۔ کیوں کہ یہی جذباتی لیڈر ہیں جو اپنے حقیر مقاصد کے لئے فرقہ وارانہ جھگڑے کھڑا کرتے ہیں۔ اور کسی جذباتی لیڈر کو طاقت ہمیشہ مسلمانوں کے سپورٹ سے حاصل ہوتی ہے۔

برطانیہ میں ایک برٹش نیشنل پارٹی ہے۔ ان لوگوں کا نعرہ ہے کہ برطانیہ برطانیوں کے لئے۔ وہ ایشیا اور افریقہ سے آنے والے تمام لوگوں کو اپنے ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ رند

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page