Al-Risala · October 1996 · page 29

سفرنامہ برطانیہ۔ہم

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۹

سال پہلے ان کا ایک لیڈر اینک پاویں (Enoch Powel) منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچ گیا تھا وہاں وہ اشتعال انگیز تقریریں کرتا رہا۔ برطانی لوگوں نے اس کو پسند نہیں کیا۔ چنانچہ اس بار وہ الیکشن میں ہار گیا۔ اور دوبارہ پارلیمنٹ میں نہ پہنچ سکا۔ یہی اگر ہندوستان میں ہو تو یہاں بھی تمام تخریب پسند تحریکوں کی جڑ کٹ جائے۔

9 اگست کو مغرب کی نماز اسپارک بروک کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد یہاں خطاب ہوا۔ خطاب میں میں نے اس حدیث کو موضوع بنایا : ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث میں نے کہا کہ بدگمانی کیوں پیدا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ ہے واقعہ کو غلط رخ سے دیکھنا۔ ہمیشہ غلط رخ سے دیکھنے ہی کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے اور آدمی الٹی رائے قائم کرلیتا ہے جس کو بدگمانی کہا جاتا ہے۔ یہ سخت گناہ کی بات ہے۔ دور صحابہ کی مثالوں سے بتایا کہ غلط رخ سے دیکھنے میں کس طرح مقدس شخصیتوں کی تصویر بھی بگڑ جاتی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ کسی کے بارہ میں رائے قائم کرتے ہوئے سخت احتیاط سے کام لیا جائے۔

10 اگست کی صبح کو اخبار جنگ کے نمائندہ مسٹر عباس ملک آگئے۔ ان سے دیر تک موجودہ زمانہ کے مسلم مسائل پر تبادلہ خیال ہوا۔ وہ اس کو انٹرویو کی شکل میں اخبار جنگ میں شائع کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ ایک قصہ ہے کہ ایک بزرگ کا قافلہ چل رہا تھا۔ اس نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ ڈالا۔ کچھ عرصہ کے بعد فاختہ کے غول وہاں آگئے اور درخت کے اوپر اپنی بولی بولتے ہوئے منڈلانے لگے۔ بزرگ نے پوچھا تو فاختہ کی جماعت کے لیڈر نے کہا کہ ہمارا ایک جوڑا ایک درخت پر پتیوں کے سایہ میں آرام کر رہا تھا کہ آپ کے ایک ساتھی نے غلیل مار کر ایک فاختہ کو گرا لیا اور ذبح کر ڈالا۔ بزرگ نے اس آدمی سے پوچھا۔ اس نے کہا کہ حضرت، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا: یہ جانور تو ہماری خوراک ہیں اور وہ ہمارے لئے حلال کئے گئے ہیں۔ بزرگ نے فاختہ کے لیڈر تک یہ جواب پہنچا دیا۔ اس نے کہا کہ ہماری شکایت یہ نہیں ہے۔ ہماری شکایت تو یہ ہے کہ آپ لوگ یہاں صوفی کے روپ میں آئے مگر آپ نے شکاری والا کام کیا۔ آپ کو صوفی کے روپ میں دیکھ کر ہم مطمئن تھے کہ آپ سے ہم کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر آپ شکاری کے روپ میں ہوتے تو ہم نے بھی اپنے بچاؤ کا انتظام کر لیا ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page