Al-Risala · October 1996 · page 30

سفرنامہ برطانیہ۔ہم

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۰

یہ اگرچہ ایک کہانی ہے۔ مگر وہ صوفیا، اور بادشاہوں کے فرق کو بہت اچھی طرح بیان کرتی ہے۔ صوفیاء بے ضرر بن کے لوگوں کے سامنے آئے اس لئے لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ بادشاہ لوگ شکاری کے روپ میں آئے اس لئے لوگ ان سے متنحش ہوگئے۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ پاکستان جیسے ملکوں میں جو جھگڑا فساد ہے اس کا سبب ڈیمو کریسی ہے۔ ڈیمو کریسی نے ہر آدمی کو سیاسی حوصلہ مند (ambitious) بنا دیا ہے۔ آپ تقابلی طور پر دیکھئے کہ جو انتشار پاکستان میں ہے وہ سعودی عرب میں کیوں نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں تمام لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاسی گدی تو صرف شاہی خاندان کو ملے گی۔ اس لئے لوگ سیاست سے نظریں پھیر کر اپنے کھانے کمانے میں لگے رہتے ہیں۔ مگر پاکستان میں ڈیمو کریسی ہے۔ اس لئے یہاں ہر آدمی سمجھتا ہے کہ میں بھی کوئی سیاسی عہدہ حاصل کر سکتا ہوں۔ اس لئے ہر آدمی حتیٰ کہ علماء تک سیاست کے میدان میں قسمت آزمائی کے لئے نکل پڑے ہیں۔

جمہوری نظام میں اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے لوگوں کے اندر بنڈل ڈسپلن ہونا۔ یہ بنڈل ڈسپلن یا تو تعلیم کے ذریعہ آتا ہے یا تقویٰ کے ذریعہ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ڈیمو کریسی صالح ڈیمو کریسی بنے تو آپ کو یہی کرنا ہوگا کہ وہاں کے سماج کو یا تو برطانیہ کی طرح تعلیم یافتہ سماج بنائیں یا دورِ اول کے اسلام کی طرح متقی سماج۔

لندن کے اخبار جنگ (۹ اگست ۱۹۹۴) میں ایک دلچسپ نیوز آئٹم دیکھنے کو ملا۔ اس کا عنوان تھا: سلمان رشدی اپنے قلم سے اپنا دفاع کرے۔ اس عنوان کے تحت حسب ذیل خبر درج تھی:۔ ملعون مصنف سلمان رشدی کی حفاظت پر سرکاری اخراجات پر عوام میں اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ سلمان رشدی کو اپنی حفاظت خود کرنی چاہئے۔ قلم کا وار تلوار سے زیادہ کاری ہوتا ہے تو رشدی کو بھی اپنے قلم سے اپنا دفاع کرنا چاہئے۔ (صفحہ ۱۲) اس کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ اگر رشدی ایسا کہے تو اس کا کیا جواب ہوگا کہ تم لوگوں نے تو میرے قلم کے جواب میں تلوار اٹھائی اور مجھ کو مشورہ دے رہے ہو کہ تمہاری تلوار کا جواب میں قلم سے دوں۔

یہاں ایک کتاب دیکھی۔ ۲۳۰ صفحہ کی اس کتاب کا نام تاریخ برطانیہ (British History) تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page