سفرنامہ برطانیہ۔ہم
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۱
اس میں بتایا گیا تھا کہ برطانی تاریخ میں کوئن وکٹوریہ کے زمانہ سے لے کر پہلی عالمی جنگ تک کے دور کو دی ایچ آف ایمپائر کہا جاتا ہے۔ اس زمانہ میں برنش ایمپائر سب سے زیادہ وسعت (greatest extent) تک پہنچی جب کہ دنیا کے لینڈ ایریا کا تقریباً (one-fifth) حصہ اس کے قبضہ میں آگیا۔ یہ اس وقت کی عالمی آبادی کا تقریباً چوتھائی حصہ تھا۔ چونکہ یہ پورے کرہ ارض پر پھیلی ہوئی تھی، اس لئے اس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ شہنشاہیت جس میں سورج غروب نہیں ہوتا: the Empire on which the Sun never sets. (p. 162)
آگے اسی کتاب کے باب دی ماڈرن ورلڈ میں درج تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانی شہنشاہیت ختم ہوگئی۔ جو ممالک اس میں شامل تھے وہ ۱۹۷۰ تک آزاد ہو گئے: After the Second World War Britain's Empire disappeared, the countries belonging to it were almost all independent by 1970. (p 190)
برطانی شہنشاہیت کی یہ مدت تقریباً سوا سو سال ہوتی ہے۔ اسی طرح اس دنیا میں تمام سلطنتوں کو عروج کے بعد زوال ہوا ہے۔ اس دنیا میں کسی بھی قوم کے لئے ابدی اقتدار مقدر نہیں۔ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار آزمائش کے لئے ہوتا ہے۔ یہ آزمائش ہر ایک کی ہونی ہے، اس لئے یہ ممکن نہیں کہ کسی ایک قوم کو ابدی طور پر سیاسی اقتدار کا مالک بنا دیا جائے۔ انگریز قوم کی یہ دانش مندی ہے کہ اس نے تاریخ کے اس فیصلہ کو بخوشی قبول کر لیا۔
برمنگھم میں حضرت سلطان باہو کے نام پر ایک مرکز ہے۔ ۱۰ اگست کی شام کو مغرب کی نماز یہاں کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد خطاب کا پروگرام تھا۔ میں نے اس آیت کو موضوع بنایا کہ وما ارسلناك الا رحمة للعالمين۔ میں نے کہا کہ اسلام امن اور رحمت کا دین ہے۔ اسلامی کلچر رحمت کلچر ہے۔ یہ اس کی ابدیت کا ثبوت ہے۔ اسلام اگر جنگ کلچر کا علمبردار ہوتا تو موجودہ زمانہ میں اس کی اہمیت ختم ہو جاتی۔ کیوں کہ جدید ہتھیاروں کے ظہور میں آنے کے بعد جنگ صرف تباہی کے ہم معنی بن کر رہ گئی ہے۔ تلوار کے دور میں جنگ کا کچھ فائدہ ہو سکتا تھا۔ گرمیوں کے دور میں یہ ناممکن ہو گیا ہے کہ جنگ کے ذریعہ کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ حاصل ہو سکے۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانہ کی جنگ دو طرفہ تباہی بن کر رہ گئی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues