Al-Risala · October 1996 · page 32

سفرنامہ برطانیہ۔ہم

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۲

ان خیالات کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا: آپ نے ہمارے جذبات کو زبان دیدی۔ مرکز کے ذمہ داروں نے دوبارہ پروگرام رکھنے پر اصرار کیا۔ تقریر کے بعد سوال وجواب ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ برائی کے خلاف اقدام صرف اس وقت جائز ہے جب آپ کے پاس برائی کو ختم کرنے کی طاقت موجود ہو۔ ایسا اقدام جس کے نتیجہ میں شدیدتر برائی پیدا ہو جائے وہ اسلام میں ہرگز جائز نہیں۔

1 اگست کی شام کو لندن میں پروگرام تھا۔ جناب شمشاد خاں صاحب کے ساتھ برمنگھم سے بذریعہ کار روانہ ہوا۔ دو گھنٹہ کا سفر کر کے ہم لوگ لندن پہنچے۔ پہلے کچھ دیر کے لئے جناب محمد اسحاق صاحب کے مکان ڈیگری روڈ، پر کچھ دیر کے لئے قیام کیا گیا۔ یہاں عصر کی نماز پڑھی گئی۔ کچھ مقامی لوگوں سے تبادلہ خیال ہوا جو یہاں اکٹھا ہو گئے تھے۔

مغرب کی نماز پاکستان کمیونٹی سنٹر (ولٹن گرین) کی مسجد میں پڑھی گئی۔ اس کے بعد اس کے ہال میں خطاب ہوا۔ یہ خطاب سیرت کے موضوع پر تھا۔ آخر میں سوال وجواب ہوا۔ سنٹر کے چیئرمین نے آخر میں بولتے ہوئے کہا کہ آج ایسی ہی تقریر بروں کی ضرورت ہے۔ مسلمان اگر اس کے مطابق عمل کریں تو ان کے تمام مسائل انشا اللہ حل ہو جائیں۔

ایک سوال یہ تھا کہ کب ایسا ہو گا کہ مسلمان دوبارہ اسلامی خلافت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ میں نے کہا کہ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ جب وہ اس کی شرطیں پوری کر دیں گے ۔ قرآن کے مطابق ، یہ شرط ایمان باللہ اور عمل صالح ہے (النور ۵۵)

رات ہی کو ہم لوگ دوبارہ برمنگھم واپس آگئے ۔ مذکورہ پروگرام اور اسی طرح برطانیہ میں ہونے والے تمام پروگرام ویڈیو ریکارڈ کئے جاتے رہے۔ ریکارڈنگ کا انتظام اسلامک پروپیگیش سنٹر انٹرنیشنل نے کیا تھا۔

اگست کی رات کو جب ہم لوگ پروگرام سے فارغ ہو کر مکان واپس آئے تو یہاں گھر کے اندر دو سفید فام پولیس کے آدمی موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ جناب شمشاد خاں صاحب کے مکان کے اوپر کے حصہ میں ایک کھڑکی کھلی ہوئی تھی ۔ اس کے راستہ سے کچھ چور اندر گھس آئے۔ ایک بیگ میں کچھ پونڈ اور کچھ جوئلری رکھی ہوئی تھی اس کو لے کر بھاگ گئے۔ گھر کی خاتون نے پولیس کو ٹیلی فون کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page