Al-Risala · October 1996 · page 33

Are you moving.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳

منٹ کے بعد پولیس آئی۔ اس وقت تک چور بھاگ چکے تھے۔

معلوم ہو کہ چوری کے واقعات یہاں عام ہیں۔ حتیٰ کہ یہ چور نہایت ڈٹھائی کے ساتھ چوری کرتے ہیں۔ چورں کہ پڑوس میں یہاں لوگ ایک دوسرے سے بے تعلق ہوتے ہیں، اس سے چوروں کو مزید موقع مل جاتا ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ایک روز کسی مکان کے سامنے ایک بڑی گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ گھر کا تالا کھول کر اس کا قیمتی سامان گاڑی پر لادا جا رہا تھا۔ پڑوسی نے اپنے گھر سے نکلتے ہوئے اس کو دیکھا تو کہا ــ کیا آپ یہاں سے جا رہے ہیں:

Are you moving.

حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ یہ چور تھے جو بند مکان کا سامان لے کر فرار ہونے والے تھے۔ مگر پڑوسی اتنا بے خبر تھے کہ انھوں نے سمجھا کہ یہ خود گھر والے ہیں جو اپنا سامان لے کر کہیں اور جا رہے ہیں: ایک صاحب نے بتایا کہ برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کے ایک لیڈر نے ایک کمپنی سے اپنی پارٹی کے لئے چندہ لیا۔ یہ چندہ رواج کے خلاف تھا۔ اس کے کچھ سال بعد وہ کمپنی دیوالیہ ہوگئی۔ کمپنی کے ذمہ داروں نے جائزہ کے بعد ایک رپورٹ شائع کی جس میں وہ اسباب بتائے گئے جن کی وجہ سے کمپنی فیل ہوئی۔ ایک سبب یہ بھی تھا کمپنی کے کچھ افسر کرپٹ ہو گئے تھے اور اس کے ثبوت میں بتایا گیا تھا کہ انھوں نے کنزرویٹو پارٹی کو مذکورہ عطیہ دیا۔

یہ رپورٹ چھپی تو کنزرویٹو پارٹی کے ذمہ داروں نے اس مسئلہ پر میٹنگ کی۔ غور وفکر کے بعد انھوں نے دو فیصلے کئے ۔ ایک یہ کہ مذکورہ رقم کمپنی کو واپس کر دی جائے ۔ دوسرے یہ کہ جس لیڈر نے چندہ لیا اور جو اس وقت حکومت میں وزیر تھا۔ اس کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے عہدے سے استعفا دیدے۔

یہی کرپشن کو دور کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔ اگر اوپر کے لوگ ایسا کریں کہ وہ خود کرپشن میں مبتلا ہوں۔ حتیٰ کہ وہ یہ قانون بنوالیں کہ ان کے اوپر خود ان کی اجازت کے بغیر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا البتہ وہ جلسوں میں آکر دوسروں کو نصیحت کریں کہ وہ کرپشن سے بچیں تو اس طرح کبھی کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔

ایک مسلمان مقیم برطانیہ نے کہا کہ انڈیا کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کے اوپر

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page