Al-Risala · October 1996 · page 35

Are you moving.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۵

سے تو اپنے آپ کو اسلام پسند کہتے ہیں مگر حقیقتہ آپ نا دہ پسند ہیں۔

۱۲ اگست کو جمعہ کا دن تھا۔ حضرت سلطان باہو ٹرسٹ کی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ جمعہ سے پہلے ۲۰ منٹ کا خطاب ہوا۔ قرآن وسنت کی روشنی میں اتحاد کی اہمیت بتائی۔ آخر میں کہا کہ اتحاد ہمیشہ اختلاف کو برداشت کرنے سے قائم ہوتا ہے۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے نہ کہ اتحاد کے ساتھ متحد ہونے کا۔ کیوں کہ ایسا اتحاد تو کبھی دنیا میں وجود میں آنے والا نہیں۔ ٹرسٹ کے چیرمین صاحب نے خطاب کے بعد کہا کہ آپ کی ضرورت سب سے زیادہ انگلینڈ میں ہے۔ یہاں اسی طرح کی باتوں کی ضرورت ہے۔ مگر ایسی باتیں کرنے والا یہاں کوئی نہیں۔ آپ نے ہمارے جذبات کو الفاظ دیدہئے ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں ہم آپ کے لئے سارا انتظام کریں گے، آپ اب یہیں رہ جائیں ، انڈیا نہ جائیں۔ خطاب کے بعد ایک صاحب الگ سے ملے انھوں نے کہا کہ مجھے معاف کیجئے ۔ آپ کے بارہ میں میرے دل میں بد گمانیاں تھیں۔ مگر اب سازی بد گمانی ختم ہو گئی۔

شام کو مغرب کی نماز مرکز اہل حدیث کی مسجد میں پڑھی۔ یہاں مغرب کے بعد ایک خطاب ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ سنت رسول سے موجودہ زمانہ میں کس طرح رہنمائی حاصل کی جائے ۔ اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ معروف سنتوں کے سوا بھی بہت سی سنتیں ہیں جو نہایت اہم ہیں۔ مگر وہ لوگوں کے لئے اجنبی بنی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک سنت تیسیر العسر ہے۔ یعنی مشکل کو آسان بنانا، اپنے مائنس کو اپنے پلس میں تبدیل کرنا۔ تقریر کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی وجہ سے یہاں ایسے تعلیم یافتہ حضرات آگئے جو عام طور پر دینی اجتماعات میں نہیں آتے۔ آخر میں سوالات کئے گئے جن کا جواب دیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اب جہاد بالسيف منسوخ ہو چکا ہے۔ اب صرف جہاد باللسان اور جہاد بالقلم کا حکم ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ جہاد کو منسوخ کہنا خود اپنی جہالت کا اعلان کرنا ہے۔ پھر کون ایسی حماقت کرے گا۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ جہاد کی کچھ لازمی شرطیں ہیں۔ ان شرطوں کی تکمیل کے بغیر جہاد کرنا جائز نہیں۔ یہ شرطیں آپ فقہ کی کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ غزوہ بدر میں کوئی تیاری نہیں تھی۔ مگر بے سروسامانی کے باوجود

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page