I want to be defender of faith not the faith.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۲
کے ایک روز بعد ہوا۔ بتایا گیا کہ دونوں واقعات میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ البتہ بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔ آگ رات کے وقت لگائی گئی جب کہ دونوں ادارے بند تھے۔ گزشتہ چھ ماہ کے کے دوران ترکوں کے کار و باری اداروں اور ثقافتی مراکز پر ۸ حملے ہوئے ہیں جن میں چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ جرمنی میں ترکوں کی آبادی ۸ لاکھ ہے جن میں ایک چوتھائی کرد ہیں۔ اس طرح کے واقعات یورپ میں ہوتے رہتے ہیں۔ مگر یہاں ان کے خلاف کسی احتجاجی مہم کا کوئی وجود نہیں۔ صفحہ آخر کی ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ بنگلہ دیش کی متنازعہ تسلیمہ نسرین اس وقت سویڈن میں ہے۔ اس نے یہاں ایک محفوظ جگہ رہائش اختیار کی ہے۔ خبر کے مطابق، تسلیمہ نسرین جب سویڈن پہنچی تو سویڈن کی خاتون وزیر خارجہ مارگر یتھانے ایئر پورٹ پر اس کا استقبال کیا۔ تسلیمہ نسرین ایک گم نام اور غیر اہم خاتون تھی۔ مسلمانوں نے اس کے خلاف شور و غل کر کے اس کو انٹرنیشنل اہمیت دیدی۔
مسٹر نذر ملک پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۲۱ اگست کی ایک ملاقات میں انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادتی ہوتی ہے۔ ان کو گورنمنٹ سروس نہیں دی جاتی۔ میں نے کہا کہ یہ بعض انفرادی واقعات کا جنرلائزیشن ہے۔ اور اس طرح کے انفرادی واقعات ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ۱۹۴۷ میں جب ملک تقسیم ہوا اس وقت کثیر تعداد میں مسلمان گورنمنٹ سروس میں موجود تھے۔ مگر اس وقت یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں ملازمین اور تعلیم یافتہ اصحاب انڈیا چھوڑ کر پاکستان چلے گئے۔ اس کمی کو پاکستانی علاقہ سے آنے والے ہندوؤں نے پر کیا۔ اس طرح اچانک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا۔ اور اس طرح کا خلا جب ایک بار پیدا ہو جائے تو دوبارہ اس کے پر ہونے میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ کیوں کہ پاکستان میں بھی ہم ٹھیک اسی صورتحال کا تجربہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں لوگ کہتے ہیں کہ اردو اسپیکنگ مہاجرین سروسوں میں بھرے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ پاکستان سے ہندو ملازمین جب انڈیا چلے گئے تو ان جگہوں کو انڈیا سے آنے والے مسلم مہاجرین نے پر کیا۔ اس طرح سابقہ توازن ٹوٹ گیا۔
۱۴ اگست کو برمنگھم کی جامع مسجد میں سیرت النبی کا جلسہ تھا۔ ظہر کی نماز اس مسجد میں پڑھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues