Al-Risala · October 1996 · page 43

I want to be defender of faith not the faith.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۳

کے بعد سیرت کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس تقریر کے لئے میں نے اس آیت کو موضوع بنایا: عسٰی ان يبعثك ربك مقاماً محمودا۔ اس جلسہ میں برمنگھم کے لارڈ مئیر بھی آئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اسلام کے بارہ میں اچھے خیالات کا اظہار کیا۔

شام کو نماز عصر کے بعد جناب شمشاد محمد خاں صاحب کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں تعلیم یافتہ عورت اور مرد جمع ہوئے۔ اس میں ایک مفصل تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ جدید علمی اور تاریخی حقائق نے دوسرے مذاہب کی صداقت کو مشتبہ کر دیا ہے۔ مگر یہ حقائق اسلام کی صداقت کو رہی اسٹیبلش کر رہے ہیں۔ اس نے موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے لئے نئے زیادہ طاقت ور مواقع پیدا کر دئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو استعمال کیا جائے ۔ تقریر کے بعد دیر تک سوال و جواب کا پروگرام رہا۔

ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں اصحاب رسول کے بارہ میں ہے کہ فالف بين قلوبكم واصبحتم بنعمته اخوانا مگر حضرت علی اور حضرت معاویہ کی جنگ اس کی تردید کرتی ہے۔ پس نے کہا کہ آپ استثناء (exception) کے ذریعہ عموم (rule) کو کاٹ رہے ہیں اور یہ طریقہ سراسر غیر علمی ہے۔ اس دنیا کے قوانین میں سے ایک قانون یہ ہے کہ یہاں ہر عموم میں استثناء موجود ہوتا ہے۔ جو بیان (اسٹیٹمنٹ) دیا جاتا ہے وہ ہمیشہ عموم کے پیش نظر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک معهود ذہنی ہے کہ اس میں استثناء بھی پایا جائے گا۔ اس لئے نہ اس کا ذکر کیا جاتا ہے اور نہ اس سے عموم کی تردید ہوتی ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ دوسری مذہبی کتابیں محرّف ہیں اور قرآن غیر محرّف۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کی تفسیر میں بے شمار اختلافات موجود ہیں۔ کیا یہ اختلافات اس کی تردید نہیں ہیں کہ قرآن بھی اب محفوظ کتاب نہیں رہا۔ میں نے کہا کہ آپ متن اور تفسیر میں خلط بحث کر رہے ہیں۔ دوسری مذہبی کتابوں کا معاملہ یہ ہے کہ اصل متن میں تحریفات ہو گئی ہیں۔ جبکہ قرآن کا معاملہ یہ ہے کہ اس کا متن مکمل طور پر محفوظ ہے۔ البتہ تفسیر و تشریح میں لوگوں نے اپنے خیالات شامل کر دئے ہیں۔ مگر اس سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ کیوں کہ متن محفوظ رہنے کی وجہ سے، ہمارے پاس وہ کسوٹی موجود ہے جس کے ذریعہ تفسیر و تشریح کے اختلافات کو جانچ کر ان کی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page