Al-Risala · October 1996 · page 44

I want to be defender of faith not the faith.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۴

صحت معلوم کی جاسکے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اگست ۱۹۹۴ میں برطانیہ کا دورہ کیا۔ ۲۰ اگست کولندن کے ٹاؤن ہال میں ان کی تقریر تھی، ٹاؤن ہال میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی مسلمان بڑی تعداد میں جمع تھے۔ نواز شریف صاحب جب ٹاؤن ہال میں داخل ہوئے تو ہال نعروں سے گونج اٹھا : ایٹم بم کس نے دیا ، نواز شریف نے انڈیا کو کس نے ڈرایا ، نواز شریف نے پاکستان کا ہر آدمی پاکستان کی شناخت اسلام بتاتا ہے، مگر اس قسم کے نعرے سراسر اسلام کی ضد ہیں۔ اگر واقعہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہوتا اور نواز شریف حقیقی معنوں میں اس کے اسلامی حکمران رہے ہوتے تو ٹاؤن ہال کے نعرے یہ ہوتے :

پاکستان کو اسلامی معاشرہ کس نے بنایا ، نواز شریف نے انڈیا سے پر امن تعلقات کس نے قائم کئے ، نواز شریف نے مذکورہ نعرے بلاشبہ قومی جاہلیت کے نعرے ہیں نہ کہ اسلامی اصول پسندی کے نعرے۔ قوم پرستی نفرت کلچر پیدا کرتی ہے، اور خدا پرستی اس کے برعکس رحمت کلچر۔

۱۵ اگست کو واپسی کا دن تھا۔ جناب شمشاد محمد خاں صاحب کے ساتھ برمنگھم سے لندن کے لئے روانہ ہوا۔ دو گھنٹے کے سفر کے بعد ہیتھرو ایئر پورٹ پہنچا۔ جناب شمشاد صاحب میرا ٹکٹ لے کر کھڑکی پر گئے تاکہ بورڈنگ کارڈ شو کرائیں، مگر وہاں ایک عجیب قصہ پیش آیا۔ کلرک نے کہا کہ اس کے اندر واپسی کی سلپ موجود ہی نہیں۔ کسی غلطی سے وہ دہلی ایئرپورٹ پر کھوئی گئی تھی۔ کوئی پریشانی کی بات نہیں ، یہ لوگ بہت ہیلپ فل ہوتے ہیں۔ شمشاد صاحب نے کہا اور فوراً وہ اس کاؤنٹر پر گئے جو ٹکٹ کے مسائل کے لئے مخصوص تھا۔ وہاں ایک معمر خاتون کھڑکی کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے میرا ٹکٹ لیا اور کچھ کہے بغیر فوراً کمپیوٹر پر اپنی انگلیاں چلانے لگی۔ اس طرح وہ دیر تک اس کو جانچتی رہی۔ آخر اس کو یقین ہو گیا کہ یہ ایک جینون کیس ہے۔ اس کے بعد اس نے مزید کارروائی کر کے نئی سلپ ہمیں دیدی۔ اس کی بنیاد پر ہم کو بورڈنگ کارڈ مل گیا۔ میرے ساتھی نے کہا کہ یہی حادثہ اگر کسی مسلم ملک کے ایئر پورٹ پر پیش آتا تو شاید وہ ٹکٹ پھینک دیتا اور کہتا کہ جاؤ ہم کو پریشان

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page