Al-Risala · October 1996 · page 45

I want to be defender of faith not the faith.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۵

مت کرو۔

ابھی وقت کافی تھا ، ہم لوگ ایئرپورٹ کے ہوٹل میں چلے گئے۔ جس میز پر بیٹھ کر ہم نے چائے پی وہاں ہوٹل کے مینجمنٹ کی طرف سے ایک تختی لگی ہوئی تھی۔ اس پر لکھا ہوا تھا کہ اگر آپ یہاں کوئی چیز خریدیں اور اس کے بعد آپ اس سے مطمئن نہ ہوں تو ہم آپ کی رقم آپ کو لوٹادینگے: We'll refund your money if you're not happy with anything you buy. And 'that's guaranteed. ہوٹل میں ایک ہندوستانی نوجوان ملازم تھا۔ وہ میز کرسی وغیرہ درست کر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ یہاں دس سال سے ہے۔ اس کی تنخواہ ہندوستانی معیار سے تقریباً ۲۵ ہزار روپیہ ماہانہ ہے۔ اس طرح کا ایک معمولی ورکر ۲۵ ہزار روپیہ مہینہ انڈیا میں حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے وطن سے بھاگ بھاگ کر یہاں چلے آرہے ہیں۔ جن لوگوں کے خلاف ہندوستانیوں نے آزادی کی لڑائی لڑی تھی، انہیں کی غلامی میں دوبارہ وہ خود اپنے آپ کو دے رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی میں سیاست سے زیادہ اہمیت اقتصادیات کی ہے۔ جناب شمشاد صاحب سے رخصت ہو کر ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوا۔ یہاں اسکرین پر مختلف ہوائی جہازوں کے اوقات بتائے جارہے تھے۔ ہانگ کانگ کی پرواز بالکل تیار تھی۔ چنانچہ اس کے نام کے آگے روشن حروف میں بار بار آرہا تھا کہ آخری کال (last call) میں نے سوچا کہ انسانوں کے لئے بھی اسی طرح " آخری کال" آتی ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو آخری کال کی اس آواز کو سن سکیں۔

لندن سے برٹش ایئرویز کی فلائٹ ۱۴۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں برٹش ایئرویز کا انفلائٹ میگزین ہائی لائف (high life) کا شمارہ اگست ۱۹۹۴ پڑھا۔ اس کے ایک مضمون میں مشہور کھلاڑی لن فورڈ کرسٹی (Linford Christie) کے حالات بتائے گئے تھے۔ ایک صفحہ پر مذکورہ کھلاڑی کی ہنستی ہوئی تصویر تھی۔ اسی کے ساتھ اس کی ایک اور تصویر تھی جس میں وہ بھاری وزن اٹھائے ہوئے تھا اور اس کے چہرہ پر مشقت کی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ اس کے نیچے یہ جملہ لکھا ہوا تھا کہ فاتحانہ مسکراہٹ سخت تربیت کے بعد حاصل ہوتی ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page