Hard training brings the smile of success.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۸
فرنچ نیوز ایجنسی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر ابھیشک کمار چندانے ۱۶ مئی ۱۹۹۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے سے مسلمانوں کے لیے کیا مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ یہ آزادی اور جمہوریت اور اقوام متحدہ کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں کوئی حکومت کسی کمیونٹی کے لیے خطرہ نہیں بن سکتی۔
جرمنی کی ایک خاتون برونس جولیا ایکرٹ (Julia Eckert) ہندو مسلم تعلقات نیز مسلم اور غیر مسلم تعلقات پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ وہ ۷ مئی ۱۹۹۶ کو مرکز میں آئیں اور اس موضوع پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ موجودہ زمانہ میں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تعلقات کے بگاڑ کا سبب اسلام کی تعلیمات نہیں ہیں۔ یہ صرف نا اہل مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کا نتیجہ ہیں۔
دور درشن کی ٹیم نے ۲۳ مئی ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ محرم کے تعلق سے یہ انٹرویو امام حسین ﷺ کے تاریخی کردار کے بارہ میں تھا۔ اس سلسلہ میں علماء اسلام کے نقطہ نظر کو بتایا گیا۔
ہندی اخبار ہمالیہ درپن کے نمائندہ سندیپ سوربھ نے ۲۴ مئی ۱۹۹۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ملک کے موجودہ سیاسی حالات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمان یہ مانتے ہیں کہ اس ملک میں ڈیمو کریسی ہے۔ اس لیے ہر پارٹی کو برابر کا سیاسی حق حاصل ہے، بشر طیکہ ہے کہ وہ دستور ہند کی پابند ہو اور فیر الیکشن کے ذریعہ اوپر آئی ہو۔
امام حسین کی شہادت اور ان کے تاریخی رول کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ۲۹ مئی ۱۹۹۶ (۱۰ محرم) کو آل انڈیا ریڈیو (ہندی وارتا) سے نشر کی گئی۔ کناڈا کی خاتون اسکالر روتھ ملائے (Ruth Lor Malloy) انڈین گائڈ کے نام ایک کتاب تیار کر رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ۳۰ مئی ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues