Al-Risala · November 1996 · page 4

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴

میرٹھ کا سفر

۱۱ اپریل ۱۹۹۶ء کو دہلی سے میرٹھ (سردھنہ) کا سفر ہوا۔ یہ سفر بذریعہ کار تین گھنٹہ میں طے ہوا۔ میرے ساتھ مولانا محمد عرفان قاسمی اور حکیم محمد کلیم صاحب شریک سفر تھے ۔ دہلی کی سڑکوں پر چلتے ہوئے جگہ جگہ دکھائی دیا کہ صفائی کا کوئی اہتمام نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ یکم مارچ ۱۹۹۶ء کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے تمام متعلق محکموں کے نام حکم جاری کیا تھا کہ وہ دہلی میں صفائی کا اعلیٰ اہتمام کریں اور اس کو خوب صورت شہر بنائیں۔ (ملاحظہ ہو اقتباس ذیل) مگر دہلی آج بھی مجھے ویسی ہی نظر آئی جیسی وہ عدالت عالیہ کے اس حکم سے پہلے تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام اور سرکاری عملہ دونوں میں قانون کی تعمیل کا جذبہ موجود نہیں، پھر حکم جاری کرنے سے کیا فائدہ ۔

عدالت عالیہ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ گھروں گھروں میں پلاسٹک کی تھیلیاں فراہم کی جائیں۔ لوگ ان تھیلیوں میں اپنے گھر کا کوڑا ڈال کر اسے سڑک پر رکھ دیں اور صبح کو صفائی کر مچاری اسے اٹھا لیں۔ اس طرح سڑکوں پر کوڑا پھیلنا بند ہو جائے گا۔ میں جس کالونی میں رہتا ہوں اس کی سوسائٹی نے ایک سال پہلے اپنی کالونی کے لیے یہی فیصلہ کیا تھا۔ چنانچہ گھر والے اپنا کوڑا

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page