میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۵
سٹک کی تھیلیوں میں بند کر کے سڑک پر رکھنے لگے۔ مگر جلد ہی یہ سلسلہ بند کر دیا گیا۔ کیوں کہ دی پلاسٹک اکٹھا کرنے والے لڑکے یہ کرتے تھے کہ وہ کوڑا سڑک پر الٹ دیتے اور تھیلی لے کر بھاگ جاتے۔
کچھ عرصہ سے ہندوستان میں ایک چیز کی بڑی دھوم ہے۔ اس کو جوڈیشیل ایکٹوزم کہا جاتا ہے۔ اخباروں میں ہر روز اس کے بارہ میں کچھ نہ کچھ چھپتا رہتا ہے۔ اس کے دفاع میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اے ایم احمدی نے دہلی میں ایک تفصیلی لیکچر دیا۔ یہ لیکچر دوستوں میں جوڈیشیل ایکٹوزم (Judicial Activism) کے عنوان سے ٹائیمز آف انڈیا، ۲۷ - ۲۸ فروری ۱۹۹۶ میں چھپ چکا ہے۔
اس طویل تحریر میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جوڈیشیل ایکٹوزم یا عدالت کا جارحانہ رول (aggressive role) دستوری طور پر درست ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ قانونی نہیں ہے بلکہ عملی ہے۔ بہتر سماج یا بہتر سماج کی تشکیل میں قانون کا رول بہت جزئی ہے۔ سب سے زیادہ چیز اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ عوام کے اندر احساس ذمہ داری ہو اور انتظامی عملہ دل سے اصلاحی احکام کے نفاذ کے لیے آمادہ ہو۔ اس لیے پہلا کام اصلاح افراد کا ہے نہ کہ اصلاح حکومت کا۔
موجودہ زمانہ میں جگہ جگہ اسلام کے نام پر انقلابی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ ان کو عام طور پر اسلامی بیداری (صحوة اسلامیہ) کہا جاتا ہے۔ یہ تحریکیں اسلام کی سیاسی تفسیر سے متاثر ہیں اور ہر جگہ "اسلامی قانون نافذ کرو" کے مطالبہ کا ہنگامہ جاری کیے ہوئے ہیں۔ مگر عملی اعتبار سے وہ اسی طرح بے سود ہے جس طرح ہندوستان کا موجودہ جوڈیشیل ایکٹوزم۔
ہندوستان میں عدالتی فیصلوں کے نفاذ کے لیے اس کے موافق حالات موجود نہیں ہیں۔ اس لیے فیصلوں کے باوجود عملاً ان کا نفاذ نہیں ہوتا۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں کسی بھی مسلم ملک میں وہ موافق سماجی فضا موجود نہیں ہے جو اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے بالفرض اگر کسی ملک میں نام نہاد اسلام پسندوں کا قبضہ ہو جائے اور وہ حکومتی اداروں کے ذریعہ اسلامی قانون کا نفاذ شروع کر دیں تو وہاں اسلام کا قانون تو نافذ نہیں ہو گا،
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues