میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۶
البتہ اسلام لوگوں کی نظر میں مضحکہ ضرور بن جائے گا۔
کچھ دیر کے بعد ہماری گاڑی دہلی سے نکل کر یوپی کی سڑکوں پر دوڑنے لگی۔ اسی کے ساتھ ہم لوگ ایک اور ذہنی سفر میں مشغول ہو گئے۔ پورے راستے میں سوال و جواب کی صورت میں مختلف موضوعات پر ہماری گفتگو جاری رہی۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے موجودہ زمانہ میں انسان کو ایسی خود کار سواریاں دے دی ہیں کہ آدمی سفر بھی کرے اور عین اسی وقت وہ اپنا دوسرا کام بھی جاری رکھے ۔
مولانا محمد عرفان قاسمی نے کہا کہ آج کل سفر بہت آرام دہ ہو گیا ہے۔ کوئی پریشانی نہیں ہوتی چنانچہ سفر میں کبھی کبھی طبیعت چاہتی ہے کہ قصر کرنے کے بجائے مکمل نماز پڑھی جائے تاکہ شک اد اکیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملہ میں گنجائش بھی ہے۔ کیوں کہ امام شافعی کے نزدیک قصر ایک رخصت ہے، اور مکمل نماز پڑھنا افضل ہے۔ پھر سفر میں پوری نماز پڑھنا کیسا ہے۔ میں نے کہا کہ حدیث میں اس کی بابت آیا ہے کہ تلک صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقته (یہ اللہ کی طرف سے ایک صدقہ ہے، پھر تم اللہ کے صدقہ کو قبول اس سے معلوم ہوا کہ اس معاملہ میں جو تقابل ہے وہ رخصت اور افضل کے درمیان نہیں ہے بلکہ رخصت اور صدقہ کے درمیان ہے۔ یعنی آپ اگر رخصت پر عمل نہ کریں تو آپ افضل کو نہیں لیں گے بلکہ خدا کے ایک عطیہ کو لینے سے انکار کریں گے۔ اور خدا کے عطیہ کو نہ لینا نعوذ باللہ خدا کی ناقدری ہے نہ کہ کوئی افضل عمل۔
پھر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے بیشتر اقدامات تباہ کن ثابت ہوئے۔ اس کا سبب غلط تقابل کی یہی فکری غلطی تھی۔ مثلاً پچھلے دو سو سال میں مسلمانوں نے ساری دنیا میں جہاد کے نام پر بار بار ٹکراؤ کیا۔ لیکن ہر بار صرف تباہی اور بربادی ان کے حصہ میں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے جہاد کا تقابل فرار سے کیا۔ وہ سمجھے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ فرار کو چھوڑ کر جہاد کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ حالاں کہ ایسے تمام مواقع پر اصل تقابل جہاد اور اعداد میں تھا۔ یعنی ٹکراؤ نہ کر کے ان کے لیے پر امن تعمیر کے میدان میں سرگرم ہونے کا موقع تھا۔ لیکن غیر ضروری طور پر وہ ٹکراؤ اور محاذ آرائی میں الجھ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پر امن تعمیر کے نہایت
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues