Al-Risala · November 1996 · page 7

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۷

یمنی مواقع استعمال ہونے سے رہ گئے ۔

ایک سوال یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں عبادت گزاری بڑھ رہی ہے۔ مگر اخلاقیات میں تنزل ہو رہا ہے۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ ایک دین داری وہ ہے جو معرفت کی سطح پر ہو۔ دوسری دین داری وہ ہے جو عادت کی سطح پر ہو۔ آج کل کے لوگ زیادہ تر عادت کے تحت عبادت گزار بن گئے ہیں۔ لیکن اخلاق میں تبدیلی عارفانہ عبادت گزاری سے پیدا ہوتی ہے: اس کو آپ شعوری عبادت گزاری بھی کہہ سکتے ہیں۔ عادت کے تحت جو عبادت گزاری کی جائے اس سے ایک قسم کی نفسیاتی تسکین تو مل سکتی ہے مگر اس میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ آدمی کے اندر اخلاقی انقلاب پیدا کر سکے۔

ایک سوال یہ تھا کہ تنقید اور تنقیص میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ تنقید وہ ہے جو متعلق شخص کے اعلان کردہ یا ثابت شدہ موقف پر ہو۔ اور تنقیص وہ ہے جس کا خود آدمی نے اعلان یا اقرار نہ کیا ہو۔ اس مفہوم میں تنقید پوری طرح جائز ہے، اور تنقیص مکمل طور پر ناجائز۔ مثلاً الرسالہ میں صبر و اعراض کی پالیسی پر زور دیا جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص صبر و اعراض کا نام لے کر الرسالہ پر تنقید کرے تو یہ اپنے طریقہ کے اعتبار سے ایک جائز تنقید ہوگی۔ لیکن اگر کوئی شخص الرسالہ کی طرف یہ بات منسوب کرے کہ " الرسالہ بزدلی سکھاتا ہے" اور پھر اس پر تنقید کرے تو یہ تنقید نہیں بلکہ تنقیص ہوگی۔ کیوں کہ ہم نے کبھی ایسا نہیں کہا کہ مسلمان بزدلی کی روش اختیار کر لیں۔ یہ دوسروں کی گھڑی ہوئی بات ہے نہ کہ ہمارا اپنا اعلان کردہ موقف۔

انھوں نے دوبارہ کہا کہ غیبت کی تعریف حدیث کی کتابوں میں یہ آئی ہے کہ پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کی جائے۔ یہی تعریف خود تنقید پر بھی صادق آتی ہے، کیوں کہ تنقید میں بھی پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کی جاتی ہے، حالاں کہ غیبت حرام ہے اور تنقید کو جائز ہونا چاہیے ۔ پھر دونوں کے درمیان حد فاصل کیا ہے۔

میں نے کہا کہ محض غیر موجودگی کی بنا پر کوئی تنقید غیبت نہیں بن جاتی۔ ہمارے مدارس میں اپنے امام کے سوا دوسرے اماموں کے مسلک پر تنقید کی جاتی ہے۔ حالاں کہ زیر تنقید امام وہاں موجود نہیں ہوتا۔ مگر کوئی بھی اس کو غیبت نہیں قرار دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ غیبت کا تعلق اس

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page