میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۸
برائی سے ہے جو آدمی کا اپنا اعلان کردہ مسلک نہ ہو۔ جب کہ تنقید کا تعلق اس مسلک سے ہے، ہے جس کا آدمی نے پہلے ہی علی الاعلان اقرار کر رکھا ہے۔ پھر اس کو غیبت کیسے کہا جائے گا۔ جو لوگ تنقید کو برا مانتے ہیں وہ اس لیے نہیں کہ ہمارے مسلک کا ذکر کیوں کیا۔ بلکہ ان کی ناراضگی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمارے مسلک پر تنقید کیوں کی۔ اگر ان کے مسلک کا صرف تذکرہ کیا جائے تو وہ خوش ہوں گے۔ البتہ جب اس پر تنقید کی جاتی ہے تو وہ ناخوش ہوجاتے ہیں۔ گویا ان کی ناخوشی تذکرہ مسلک پر نہیں ہے بلکہ تنقید مسلک پر ہے۔ جب کہ غیبت وہ ہے جس میں خود تذکرہ ہی آدمی کے لیے ناخوشی کا باعث بن جائے۔
"جو لوگ پیغام حق سننے سے پہلے مر گئے ان کا انجام کیا ہوگا"۔ اس سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ یہ غیب کی باتیں ہیں، اور ہم غیب کے بارہ میں رائے قائم کرنے کے مکلف نہیں۔ میں نے کہا کہ پچھلے زمانہ میں لوگوں نے اس طرح کے سوالات پر بہت زیادہ بحثیں کیں مگر یہ تمام تر فلسفہ کے زیر اثر تھا کہ اسلام کے زیر اثر۔ ۔۔ یہی وہ باتیں ہیں جن کے بارہ میں قرآن میں ہے کہ تم کو علم قلیل (الاسراء، ۸۵) دیا گیا ہے، اس لیے تم ان پر بحث نہ کرو۔ مگر قدیم فلسفہ موقف چوں کہ یہ تھا کہ انسان علم کلی تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے اس کے زیر اثر لوگ اس طرح کے سوالات میں تعمق کرنے لگے۔
مگر موجودہ زمانہ کا غالب علم سائنس ہے۔ اور سائنس نے اس قسم کے تمام سوالات کا آخری جواب دے دیا ہے۔ سائنس نے بتایا کہ انسان اپنی محدودیت کی بنا پر علم کلی تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔ اس لیے اس کو اجمالی علم پر قناعت کرنا چاہیے۔ اس تحقیق کے بعد اب قرآن کا موقف ہی خود علمی اعتبار سے بھی واحد صحیح موقف بن گیا ہے (تفصیل کے لیے: مذہب اور سائنس) جب بھی بذریعہ روڈ میں کسی سفر پر جاتا ہوں تو ایک منظر ضرور دکھائی دیتا ہے۔ یہ سڑک کے کنارے الٹی ہوئی گاڑیاں ہیں۔ اس سفر میں بھی ایک ٹرک الٹا ہوا نظر آیا۔ یہ منظر خود درائی کے اندر تھا۔
اس طرح کے روڈ ایکسیڈنٹ پہلے زمانہ میں نہیں ہوا کرتے تھے۔ یہ صرف جدید مشینی دور کی خصوصیت ہے۔ تیز رفتار سواریوں کا دور اس قسم کے حادثات سے تقریباً خالی تھا۔ جب۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues